اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 239
239 طرح ہمارے سامنے پیش کئے جاؤ گے۔تو اس کے جواب میں حضور نے کیا فرمایا ؟ مولا نا دوست محمد شاہد صاحب:۔حضور نے اس کے جواب میں، جہاں تک مجھے یاد ہے، یہ ارشاد فرمایا کہ اس تاریخ کی الفضل میں یہ عبارت نہیں مل سکی۔الفضل 1952ء کی ایک تحریر کی وضاحت ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب:۔اسی طرح حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حوالہ سے یہ کہا گیا کہ مرزا محمود احمد کا یہ بیان ہے 16 جنوری 1952 ء کے الفضل میں شائع ہوا کہ 1952ء کوگز رنے نہ دیا جائے جب تک دشمن آغوش احمدیت میں نہ گر جائے۔“ مولا نا دوست محمد شاہد صاحب حضور نے اپنی زبان مبارک سے یہ فیصلہ کن جواب دیا کہ یہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی کا بیان نہیں ایک ذیلی تنظیم خدام الاحمدیہ کے مہتم تبلیغ کا نوٹ ہے۔“ اس پر میں صرف یہ بات عرض کرنا چاہتا ہوں اس وقت مہتم تبلیغ عبدالحمید صاحب آصف تھے جواب فوت ہو چکے ہیں۔جماعت احمد یہ اور تحریک آزادی ہند حافظ محمد نصر اللہ صاحب :۔اگلا سوال حضور سے یہ ہوا کہ جب انگریز کی حکومت کی اطاعت جماعت احمدیہ کے عقیدہ کا حصہ تھی تو آپ نے تحریک آزادی میں کیونکر حصہ لیا ؟ مولانا دوست محمد شاہد صاحب :۔حضور نے اس کے جواب میں ارشا د فر مایا کہ اس کی اجازت خود حکومت وقت نے ملک کے باشندوں کو دے دی تھی۔“ یہ حضور کا جواب ختم ہوا۔آپ اگر بر صغیر کی تاریخ کو پڑھیں تو یہ بڑا واضح ہے کہ 1857ء کے غدر کے بعد مدت تک آزادی کے تصور سے ملک کے رہنے والے نا آشنا تھے۔اس کے بعد وقت آیا اور وہ وقت پہلی جنگ عظیم کے بعد آیا ہے جبکہ حکومت نے یہ کہا کہ ہم اس جنگ کے بعد کوشش کریں گے کہ ہندوستانیوں کو آہستہ آہستہ کئی قسطوں میں آزادی دیں۔پہلے نو آبادیوں کا علاقہ ملے گا