اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 238 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 238

238 تشریف لائے۔ایک خاتون کینیڈا سے آئی تھیں۔وہ پہلے مدراس گئیں۔حواری کی قبر دیکھنے کے لئے۔پھر قادیان گئیں اور وہاں سے ربوہ آئیں۔جس جگہ سے وہ آئی تھیں وہاں کے احمدی پریذیڈنٹ نے میرا ذکر بھی کیا کہ تم ربوہ بھی جارہی ہو تو اس سے ضرور ملنا۔بات جب شروع ہوئی تو میں نے ان سے کہا کہ ہم تو دو مسیحوں کو ماننے والے ہیں۔حضرت مسیح ابن مریم کو بھی مانتے ہیں اور اس مسیح کو بھی مانتے ہیں جس کے متعلق حضرت مسیح ناصری نے یہ کہا تھا کہ میں تو اس کا تسمہ کھولنے کے برابر بھی نہیں ہوں اور جس کے متعلق موسیٰ علیہ السلام نے پیشگوئی کی تھی کہ وہ فاران کی چوٹیوں پر سے ظاہر ہو گا۔اور دس ہزار قدوسی اس کے ساتھ ہوں گے اور آتشی شریعت اس کے ساتھ ہو گی۔یہاں سے بات شروع ہوئی تو میں نے کہا کہ میں بھی گیا ہوں مدراس میں۔اس کے بعد میں نے کہا کہ مدراس کی طرف تو ما حواری کیوں بھجوائے گئے تھے ؟ آپ سوچیں۔وہ اس لئے بھیجے گئے کہ حضرت مسیح (Jesus Christ) کا یہ مشن تھا کہ میں بنی اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیٹروں کے سوا کسی کی طرف نہیں بھیجا گیا۔اور چونکہ ساؤتھ انڈیا میں مالا بار کے علاقہ میں، مدراس کے علاقہ میں کثرت سے بنی اسرائیل آباد تھے تو تو ما حواری کو حضرت مسیح علیہ السلام نے وہاں بھجوایا تھا۔میں نے کہا کہ اب میں آپ سے یہ پوچھتا ہوں کہ مسیح کا مشن تو یہ تھا کہ وہ بنی اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کو جمع کریں۔اب آپ کا نکتہ نگاہ یہ ہے کہ مسیح علیہ السلام نے باپ کے اس ارشاد کی تعمیل کرنے کی بجائے ان کھوئی ہوئی بھیڑوں کی طرف جن کے متعلق یہ تاریخ سے ثابت ہے کہ باقی جو دس قبیلے تھے، وہ افغانستان، کشمیر، مدراس وغیرہ میں چلے گئے مسیح علیہ السلام نے باپ کی نافرمانی کر دی۔بجائے یہاں کشمیر اور افغانستان کی طرف آنے کے، وہ آسمان پر چلے گئے۔میں نے کہا کہ آپ خود بتائیں کہ اگر کوئی گورنمنٹ کسی کو کسی کالج کا پرنسپل بنائے اور وہ وہاں جانے کی بجائے آسٹریلیا آجائے تو وہ اس کی عزت کرے گی یا اسے جرمانہ ہوگا اور سزا ہوگی۔تم مجرموں کی طرح ہمارے سامنے پیش کیے جاؤ گے ؟“ حافظ محمد نصر اللہ صاحب :۔ایک سوال الفضل 3 جولائی 1952ء کے حوالہ سے حضرت خلیفہ مسیح الثالث رحمہ اللہ سے کیا گیا کہ اس میں درج ہے کہ ہم فتح یاب ہوں گے اور تم مجرموں کی