اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 226
226 تمہیں مسجدوں سے نکال دیا گیا اور جنازے تمہارے بغیر کفن دفن کے کسی اور قبرستانوں میں دفن کئے گئے اور اس کے علاوہ پھر اور بڑی ذلت ہوئی۔تمہاری عورتوں کے نکاح فسخ کئے گئے۔تو میں اس طرح کرتا ہوں کہ کم از کم مولویوں سے کہتا ہوں کہ ہم سے صلح کر لیں۔اس طرح نہ ہمیں مسجدوں سے نکالا جائے گا اور نہ ہمیں جنازہ پڑھنے سے کوئی روکے گا۔تو یہ Background خود علماء نے بیان کر دیا ہے اور یہ حقیقت ہے کہ جماعت ان فتووں کے بعد 1900 ء تک ان کے جنازوں میں شامل ہوتی تھی۔نکاح شادی کے تعلق موجود تھے۔مسجدوں میں ہم جاتے تھے۔ان کے پیچھے نمازیں پڑھتے تھے لیکن جب یہ صورتحال ہوئی تو حضور نے فرمایا کہ اب جب انتہا تک ہمارے خلاف اشتعال پیدا ہو گیا ہے تو اب خواہ تم چاہو بھی کسی دوسرے مسلمان کے جنازے میں جانا چاہو گے تو تمہیں نشانہ بنایا جائے گا۔مسجدوں میں جاؤ گے تو تمہیں مسجدوں سے نکال دیا جائے گا۔اس لئے خود اپنے امام کے پیچھے نماز پڑھو اور کسی کا جنازہ پڑھنے کی بجائے خود اپنوں کا جنازہ پڑھو۔باقی اس فتنہ میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔تو یہ اصل صورت تھی جس کی روشنی میں حضور نے جواب دیا۔لفظ کیا تھے وہ میں اب معین نہیں بتا سکتا۔مرزا افضل احمد صاحب کا جنازہ ہوا تھا؟ حافظ محمد نصر اللہ صاحب :۔کیا مرز افضل احمد صاحب کے جنازے کے حوالے سے بھی ذکر مولا نا دوست محمد شاہد صاحب:۔ہاں ! حضور نے فرمایا کہ ان کا جنازہ نہیں پڑھا گیا۔اس لئے کہ وہ حضرت بانی جماعت احمدیہ پر ایمان نہیں رکھتے تھے۔تو امام وقت کا ایک ارشاد تھا تو بنیاد تو یہی ہے۔اصل سوال یہ نہیں ہے کہ جنازہ پڑھا جائے یا نہ پڑھا جائے۔اس واسطے کہ اول تو بات یہ ہے کہ جنازہ جو پڑھنے کا معاملہ ہے یہ فرض کفایہ ہے۔اگر ایک شخص بھی جنازہ پڑھ لے تو دوسرے پر اعتراض ہی نہیں کیا جا سکتا۔اب دیکھیں روزانہ ہزاروں مسلمان مرتے ہیں۔کیا ساری دنیا ان کا جنازہ پڑھتی ہے۔؟ ایک بھی پڑھ لے تو فرض کفایہ ادا ہو گیا۔تو کسی کے اعتراض کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔