اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 214
214 ذہن میں ہے۔اس کا تصور کرتے ہی ایک خلجان اور طوفان پیدا ہو جاتا ہے۔اے کاش کہ وہ کشف مرزا صاحب کو نہ آیا ہوتا۔اس کو میں پیش کرتا ہوں اور چاہتا ہوں کہ اگر آپ کے پاس کوئی جواب ہے اور میں نہیں سمجھتا کہ کسی احمدی کے پاس جواب ہو۔اگر ہے تو بتائیں آپ، کیونکہ میرے راستے میں مرزا صاحب کا یہ کشف سب سے بڑا حائل ہے کہ مرزا صاحب نے حضرت فاطمہ الزہراہ کے متعلق دیکھا کہ گود میں لئے ہوئے ہیں۔تو اہل بیت میں سے امہات المومنین ، حضرت فاطمہ اور دوسروں کے متعلق ایسا دیکھنا تو سب سے بڑی گستاخی ہے اور مسلمان تو اپنی جان کی بازی لگا دیتا ہے۔اور جماعت احمدیہ کے خلاف اشتعال پیدا کرنے کے لئے یہ سب سے بڑا حربہ مخالفوں نے یہی استعمال کیا ہے۔اور وہ جانتے ہیں کہ اس کی وجہ سے شیعہ اور سنی دونوں کے جذبات کو ابھارا جا سکتا ہے۔اسی لئے محضر نامہ میں بھی جیسا کہ آپ نے بتایا ہے اس کو شامل کیا گیا ہے۔میں نے کہا کہ میں آج آپ کو بتانا چاہتا ہوں ڈنکے کی چوٹ پر یہ کشف ہی اس بات کی دلیل ہے کہ بیسویں صدی میں اہل بیت محمد ملے کا سب سے بڑا عاشق بانی جماعت احمدیہ کا وجود ہے۔یہ میں نے بات کہی اور اس کے بعد کتاب ” نور الہدی ، جس کا ترجمہ ” حق نمائے“ کے نام سے شائع ہوا، کے دسویں باب کی یہ عبارت پڑھی۔یہ حضرت سلطان باہو کے الفاظ ہیں۔” فقر کسے کہتے ہیں اور فقر کی کیا صورت ہے اور فقیر سے کیا چیز حاصل ہوتی ہے۔اور فقیر کن اعمال اور احوال سے پہچانا جاتا ہے۔یادر ہے کہ ابتداء میں مشق وجود یہ اور تصور اسم اللہ ذات کے ذریعے طالب کے سر سے قدم تک تمام وجود ایسا پاک اور صاف ہو جاتا ہے گویا ابھی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہے۔یہ صوفیاء کی بہت پرانی اور نفیس اور روح پرور تحریر ہے۔آگے فرماتے ہیں:۔اور مشق وجود یہ کی پاکی اور برکت سے مجلس حضرت محمد رسول اللہ صلعم میں ایک نوری طفل معصوم کی شکل میں حاضر ہو جاتا ہے۔“ (اب یہ سننے والے الفاظ ہیں۔میں نہایت ادب سے درخواست کروں گا کہ وہ سنیں کہ یہ سلطان باہو رحمتہ اللہ علیہ جیسے پاک نفس اور سلطان الاولیاء کے الفاظ ہیں۔)