اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 7
7 جناب سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری جنہیں ان کے معتقدین ” شہنشاہ خطابت امیر شریعت سے موسوم کرتے ہیں ، ان کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں لیکن ضمناً ایک دلچسپ بات میں یہ بیان کر دوں کہ حکیم مختار احمد احسینی صاحب نے ایک کتاب لکھی ہے فرمودات امیر شریعت اس میں انہوں نے شاہ جی کی ایک تقریر کا حوالہ دیا ہے۔لکھتے ہیں کہ شاہ جی نے ایک دفعہ اپنی تقریر کے دوران یہ بتانے کے لئے کہ مجھے امیر شریعت کہنے والے دراصل کیا تصور رکھتے ہیں کہا کہ یار لوگوں نے شریعت کو نہ ماننے کے لئے مجھے امیر شریعت بنا رکھا ہے“۔(صفحہ 78 ناشر مکتبہ تمیر حیات چوک رنگ محل لاہور ) شاہ جی نے ایک دفعہ یہ بیان دیا اور یہ ان کے مشہور عقیدت مند شورش کاشمیری صاحب مدیر چٹان نے ان کی سوانح عمری میں بیان کیا ہے۔ان کے الفاظ یہ ہیں :۔اُن کا عقیدہ تھا کہ اخبارات نے آغاز سے اب تک بڑے بڑے جھوٹ گھڑے ہیں، اگر اس جھوٹ کا بوجھ ماؤنٹ ایورسٹ پر پڑتا تو وہ زمین میں پھنس چکی ہوتی۔“ سید عطاء اللہ شاہ بخاری (سوانح وافکار )‘ صفحہ 18) صاف طور پر اشارہ ہے کہ وہ دنیا میں تو گئے نہیں بر صغیر کے اخبارات کی طرف اشارہ ہے۔یہ میری ابتدائی عرضداشت تھی اور اس عرضداشت کے ساتھ میں آپ سے دعا کا بھی طلبگار ہوں۔ہم تہی دست تیرے در پر چلے آئے ہیں لطف سے اپنے عطا کر ید بیضاء ہم کو حضرات ! اس ناچیز کی معروضات ختم ہوئیں۔اب آپ جیسے بالغ نظر مبصروں سے با ادب درخواست ہے کہ روداد اسمبلی کے پس منظر، اس کی تفصیل اور دیگر اہم کوائف کے متعلق اپنے نقطہ نگاہ سے سوالات کی شکل میں خاکسار کی راہنمائی فرمائیں۔حق تعالیٰ نے آپ کو اس زاویہ نگاہ سے عالمگیر جماعت احمدیہ کے ترجمان کا درجہ عطا کیا ہے۔فذالك فضل الله يوتيه من يشاء۔