اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 213
213 ہیں اور ہمارے پیارے ہیں۔اس کی نظیر شاہ نور الدھر کی حالت سے جو ملفوظات رزاقی کے صفحہ 92 میں لکھی ہے کہ حضرت عبد الرزاق بانسوی در مدح ایشان فرموده اند که شاه نور الدهر را دیده ام که در آغوش حضرت فاطمہ زہراء علیها السلام آں چناں بازی میکنند که اطفال در کنار مادر خود میسازند - چھوٹے بچے جب ماں کی گود میں کھیلتے ہیں تو کبھی ماں کے کرتے میں اپنا منہ چھپا لیتے ہیں، کبھی ماں کا پیٹ کھولتے ہیں۔سینہ پر ہاتھ ڈالتے ہیں تو شاہ نور الدھر کہتے ہیں کہ میں نے خواب اور کشف میں دیکھا کہ میں اسی طرح حضرت فاطمہ الزہراء کی گود میں کھیل رہا ہوں۔ارشا در حمانی فضل یزدانی صفحه 50 ناشر در ولیش پریس دہلی) اب اسی سلسلہ میں آپ آخر میں سنیں۔واقعہ کے ساتھ بیان کرتا ہوں کیونکہ واقعہ بیان کرنے سے اصل حقائق ذہن میں آ جاتے ہیں۔حضرت سلطان العارفین سلطان باہو رحمۃ اللہ علیہ بہت ہی عظیم صوفی گذرے ہیں اور ان کا وطن یہی ضلع جھنگ تھا۔حضرت سلطان باہو کی کتاب ” نور الہدی“ ہے۔اس کا ترجمہ فقیر نورمحمد صاحب سروری قادری کلانچوی کے قلم سے پانچویں دفعہ 1976ء میں شائع ہوا اور اس کی فوٹو کاپی میرے پاس ہے۔یہ وہی ترجمہ ہے جس کے حاشیہ میں، میں نے ایک کلمہ کے متعلق بتایا تھا اور وہ کلمہ تھا لا الله من كان الا اللہ تن کان۔یہ اس کے حاشیہ میں موجود ہے کہ ایک بزرگ آئے اور انہوں نے دوسرے بزرگ سے کہا کہ میں نے سورۃ المزمل کا چلہ کیا ہے تو میری بات ہی نہیں بنی۔کہنے لگے اچھا تم یہ کلمہ پڑھو۔اس میں جو لکھا ہے میں آپ کو سناتا ہوں مگر واقعہ کی شکل میں۔بات یہ ہوئی کہ میں اپنے دفتر میں بیٹھا ہوا تھا، تو ایک صوفی مزاج رکھنے والے غالباً قادری فرقہ سے ان کا تعلق تھا یا چشتی تھے۔انہوں نے آتے ہی یہ بات کہی۔کہنے لگے کہ میں جماعت احمدیہ سے محبت رکھتا ہوں۔لیکن ایک ایسا سوال