اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 208
208 کریں گے۔“ (اردو ترجمہ ”تذکرۃ الاولیاء، صفحہ 188 - ترجمہ علامہ عبدالرحمن شوق ناشر ملک سراج دین اینڈ سنز لاہور ) اب اس میں صحابی کا لفظ ابن سیرین کے ماننے والوں کے لئے استعمال کیا گیا ہے تو جس نے وہ رسوائے عالم آرڈینینس جاری کیا ہے 1984ء کا۔اس کو اپنے لٹریچر کا بھی پتا نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ احمدی اہل بیت کا لفظ استعمال کریں اور نہ ہی صحابی کا لفظ وغیرہ۔تو میں بتاؤں گا کہ آنحضرت ﷺ نے تو مثلاً بلی کو بھی اہل بیت قرار دیا ہے۔حیران کن بات ہے۔میں بعد تفصیل میں انشاء اللہ بیان کروں گا۔ابن سیرین جو عالم اسلام کے مشہور معتبر سمجھے جاتے ہیں ان کا تذکرہ حضرت فریدالدین عطار گر رہے ہیں اور ابن سیرین کے ساتھی کو صحابی کا نام دیا جارہا ہے۔وہ کہتے ہیں نا۔کیونکر خدا کے عرش کے قائل ہوں یہ عزیز جغرافیہ میں عرش کا نقشہ نہیں ملا اسلام میں نہیں پڑھا، قرآن میں نہیں دیکھا، تاریخ اسلام کی ورق گردانی نہیں کی اور ایک نیا اسلام بنا کر جماعت احمدیہ کو بزعم خویش ختم کرنے کے لئے یہ آرڈنینس بنادیئے اور اس لحاظ سے دنیا پر ظاہر ہو گیا کہ جن ہاتھوں نے لکھا ہے اور جن کی وجہ سے لکھا ہے۔ان کا اسلام سے بھی تعلق نہیں تاریخ سے بھی تعلق نہیں۔حضرت پیران پیر حضرت شیخ عبد القادر جیلانی کسی تعارف کے محتاج نہیں۔آپ نے اپنی کتاب قلائد الجواہر “ میں لکھا ہے کہ:۔ایک شب میں نے دیکھا کہ میں ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ 66 کی آغوش میں داہنی چھاتی سے دودھ پی رہا ہوں۔“ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرماتے ہیں کہ میں نے کشف میں دیکھا حضرت فاطمہ کو مادر مہربان کی طرح۔فرماتے ہیں کہ مجھے اللہ نے بتایا کہ تمہارے خاندان میں تمہاری دادیاں، نانیاں،سادات میں سے بھی تھیں۔یہ کشف تھا اور میں نے اپنے تئیں دیکھا کہ حضرت فاطمہ مجھ کو اپنی گود میں اس طرح بٹھائے ہوئے ہیں جس طرح کہ ایک مہربان والدہ اپنے بیٹے کو بٹھائے ہوئے