اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 207
207 رہے تھے۔آپ اگر اجازت دیں تو میں اس کے بعد کی تحقیق جو حضور کے ارشاد کے مطابق میں کرتا رہا۔اس کی چھوٹی سی جھلک آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔یہ جو حضور نے حوالہ پیش فرمایا یہ تذکرۃ الاولیاء کے صفحہ 188 میں حضرت امام ابو حنیفہ کے حالات میں حضرت فرید الدین عطار جیسے ولی کامل نے بیان فرمائے ہیں۔حضرت امام ابو حنیفہ کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ :۔شرع و ملت کے چراغ ، دین و دولت کی شمع، ثابت حق کے نعمان ، جواہر معانی اور دقائق کے عمان ، عالم ،صوفی ، عارف ، امام جہان ، امام ابو حنیفہ کو فی رحمتہ اللہ علیہ ایسے شخص ہیں جن کی صفت ہر ایک نے کی ہے اور ہر مذہب کے مقبول ہیں۔آپ کی ریاضت ، مجاہدے، خلوت اور مشاہدے کی کوئی انتہا نہ تھی۔اصول طریقت اور فروع شریعت میں اعلیٰ درجہ اور گہری نظر رکھتے تھے۔آپ نے بہت سے صحابہ کی زیارت کی ہے۔مثلاً انس بن مالک، جابر بن عبد الله عبد اللہ بن اوفی ، واثلہ بن اسقع ، اور عبد اللہ بصری رضی اللہ عنہم اور صادق رضی اللہ عنہ کے ہم نشین رہے ہیں۔( یعنی امام جعفر صادق علیہ السلام) آپ فضیل، ابراہیم ادہم، بشر حافی اور داؤد طائی رحمۃ اللہ یھم کے استاد تھے۔پھر سید المرسلین ﷺ کے روضہ مبارک پر گئے عليه اور سلام علیک یا سَيّد المرسلین کہا۔جس کے جواب میں سناعلیک السلام یا امام المسلمين (صاحب کشف تھے )۔۔۔منقول ہے کہ آپ نے حقیقی قبلہ کی طرف توجہ کی اور دنیا سے منہ پھیر لیا اور صوف پہن لی۔ایک رات خواب میں دیکھا کہ آپ جناب رسول کریم ﷺ کی ہڈیاں لحد میں سے اکٹھی کر رہے ہیں اور بعض کو پسند کرتے ہیں اور بعض کو نہیں۔مارے خوف کے بیدار ہوئے۔تو ابن سیرین کے ایک صحابی سے پوچھا تو اس نے کہا کہ آپ پیغمبر ﷺ کے علم اور آنحضرت کی لغت کو محفوظ رکھنے میں اس درجے کو پہنچیں گے کہ اس پر متصرف ہوں گے اور ان کے صحت وسقم میں تمیز