اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 205
205 وعدہ کیا تھا آپ سے۔رات میں نے وہ کتاب دیکھی ہے۔اس کتاب کے 193 صفحات تو الگ رہے اس کا سوصفحہ بھی نہیں ہے، اتنی بھی صفحہ نہیں ہے، ساٹھ بھی نہیں، چالیس بھی نہیں تھیں صفحہ بھی مجھے نہیں ملا اس کا ، ہیں بھی نہیں ملا۔وہ عربی زبان کا ایک رسالہ ہے اور اس کے صرف سولہ صفحات ہیں اور اس میں خدا کے برگزیدہ بندوں کی علامتیں بیان کی گئی ہیں۔حضرت عیسی کا ذکر ہی کوئی نہیں۔اب یہ خدا کا عاجز بندہ سولہ صفحے کے رسالہ میں سے ایک سو ترانوے صفحہ کہاں سے لاسکتا ہے۔جب حضور نے ایک خاص انداز کے ساتھ تقسیم کرتے ہوئے یہ جواب ارشاد فر مایا تو وہ منظر ایسا تھا کہ میرے دل میں خیال آیا کہ کاش ہمارے پاس بھی کوئی کیمرہ ہوتا تو کم از کم یہ منظر تو دنیا کو دکھانے کے لائق تھا۔میرے سامنے اب بھی وہ نقشہ ہے۔اپوزیشن کے لیڈر مفتی محمود صاحب نورانی صاحب، پروفیسر غفور صاحب، ظفر انصاری صاحب یعنی ایک بھا گڑ مچی ہوئی تھی۔کوئی کہہ رہا تھا مرزا صاحب کی کتاب منگواؤ، کتا بیں سامنے پڑی ہوئی تھیں۔کوئی اس طرف دوڑا دیکھنے کے لئے ، کوئی اپنی کتاب دیکھ رہا ہے محمدیہ پاکٹ بک، یا غالباً اس جواب کے بعد ایک طرف تو یہ قیامت ڈھائی ہوئی تھی اپوزیشن کے مولویوں پر اور ممبروں پر اور دوسری طرف پیپلز پارٹی والوں نے ہوٹنگ کی مگر کوئی آواز نہیں بلند کی۔یہ ان کی شرافت تھی کیونکہ ویسے بھی پروٹوکول کے لحاظ سے وہ اسمبلی ہال میں کچھ کر نہیں سکتے تھے۔لیکن اٹھ اٹھ کر مسکراتے اور اشارے بھی کرتے تھے۔اگر ان کے اختیار میں بات ہوتی اور اس کو کر سکتے تو پھر وہ وقت تھا کہ اتنی نعرہ بازی ہوتی کہ دنیا دیکھ لیتی۔لیکن بہر حال انہوں نے ایک حد تک ہوٹنگ کی مگر عملی طور پر کی اور جناب یحییٰ بختیار صاحب کا تو یہ عالم تھا کہ اس کے بعد جو سوال آتا کہتے کہ مرزا صاحب ! یہ میرا سوال نہیں ہے۔یہ ان حضرات کی طرف سے آیا ہے۔اور اصطلاحات کفر اور ” خارج از اسلام کی تشریح ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب : ایک سوال کفر اور خارج از اسلام کی اصطلاحات کے بارے میں حضرت خلیفہ اسیح الثالث سے کیا گیا تھا کہ یہ اصطلاحات جماعت احمدیہ کے لٹریچر میں مسلمانوں کی نسبت استعمال کی گئی ہیں؟ مولا نا دوست محمد شاہد صاحب: - حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے اس کا مختصر جواب دیا کیونکہ اصل