اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 204
204 کتاب ”سیرۃ الابدال میں مسیح علیہ السلام کی گستاخی حافظ محمد نصر اللہ صاحب :۔ایک سوال حضرت خلیفہ مسیح الثالث رحمہ اللہ سے یہ ہوا۔بڑے ذومعنی فقرات اس میں استعمال کئے گئے کہ مرزا صاحب نے ” ہمارے مسیح علیہ السلام کے خلاف اپنی کتاب ”سیرۃ الابدال کے صفحہ 193 پر سخت گستاخی کی ہے۔تو اس کے جواب پر آپ روشنی ڈالیں؟ مولانا دوست محمد شاہد صاحب:۔بات یہ ہے کہ اٹارنی جنرل صاحب جناب یحیی بختیار صاحب جو بھٹو گورنمنٹ کی ترجمانی میں جرح کر رہے تھے وہ شروع سے ہی اس انداز پر چل رہے تھے کہ آپ لوگوں کا مذہب اور ہے ہمارا مذہب اور ہے ، آپ کا قبلہ الگ ہے، ہمارا قبلہ الگ ہے۔اسی دوران انہوں نے کہا کہ دیکھیں جی ہمارے مسیح علیہ السلام کی کتنی تو ہین کی گئی ہے۔حضور نے فرمایا۔کیا؟ بیٹی بختیار صاحب کے ہاتھ میں ایک چٹ تھی اور وہ چٹ اپوزیشن لیڈرز میں سے کسی کے ذریعے ان تک پہنچی تھی۔اس میں یہ لکھا تھا کہ مرزا صاحب نے اپنی کتاب ”سیرۃ الابدال کے صفحہ 193 پر حضرت مسیح علیہ السلام کی سخت توہین کی ہے اور سخت گستاخی کا مظاہرہ کیا ہے۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث فرمانے لگے کہ بانی جماعت کی یہ تحریر میں آج ضرور دیکھوں گا اور کل آ کر ہی اس کا جواب دوں گا۔اگلے دن اجلاس میں شامل ہونے سے پہلے حضرت خلیفتہ المسیح الثالث" نے ہمیں یہ ارشاد فرمایا کہ "سيرة الابدال کے متعلق کوئی یاد دہانی نہ کرائے اب۔یہ اللہ تعالیٰ کی مشیت ہو گی تو یحیی بختیار سوال کرے گا یا اس کی مشیت نہ ہوئی تو سوال نہیں کرے گا۔خدا کی حکمت کہ جاتے ہی جناب بیٹی بختیار صاحب نے کہا کہ مرزا صاحب یہ بڑا اہم ترین سوال تھا اور آپ نے اس کو نظر انداز کر دیا۔فرمایا کون سا سوال ؟ حضور چاہتے تھے کہ یہ ٹیپ ریکارڈ ہو جائے۔دوباره ی بختیار صاحب نے کہا آپ کے مرزا صاحب نے ” سیرۃ الا بدال‘ کے صفحہ 193 پر حضرت مسیح علیہ السلام کی جو مسلمانوں کا نبی ہے توہین کی ہے۔حضور نے فرمایا کہ میں نے