اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 6 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 6

6 وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَانُ قَوْمِ (المائدة: 9) فرمایا کسی قوم کسی طائفہ کسی ملک کی دشمنی اور اختلاف نظریہ تمہیں عدل سے برگشتہ کرنے کا موجب نہ بنے۔اِعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى (المائدة: 9) فرمایا تاریخ لکھنے بیٹھے ہو تو تقویٰ کے ساتھ لکھنا اور یہی خدا کو پسند ہے۔قرآن یہی کہتا ہے کہ خد تعالی بچوں کو پسند کرتا ہے اور فرمایا كُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ ( التوبة : 119 ) سچوں کے ساتھ ہو اس کے معنی یہ بھی ہیں کہ تاریخ بھی کچی لکھو اور پھر اس کو اپنے دل میں جگہ دو اور سینے میں بساؤ جو کہ حقیقت پر مبنی ہے۔مگر افسوس پچھلی صدیوں سے بالخصوص برصغیر کے چوٹی کے مذہبی رہنماؤں نے مسلمانان عالم کے دل میں یہ انتہائی خطرناک عقیدہ نقش کر دیا ہے۔اپنی کتابوں ،اپنے خطبوں، تقریروں اور اپنے عمل کے ذریعہ سے کہ احیائے حق کے لئے جھوٹ کا بولنا محض جائز ہی نہیں بلکہ بعض اوقات واجب بھی ہو جاتا ہے۔اور اس حد تک واجب ہے کہ جب وجوب کی حد تک جھوٹ بولنا حق وصداقت کی اشاعت کے لئے ضروری ہو جائے تو پھر سفید جھوٹ بولنا چاہئے تا کہ سننے والا یہ وہم و گمان ہی نہ کر سکے کہ اتنا بڑا جھوٹ بھی منبر و محراب کے وارث کی زبان سے بولا جاسکتا ہے۔چنانچہ آپ دیکھیں دیو بند کے مشہور عالم مذہبی رہنما رشید احمد صاحب گنگوہی جن کا مقام اور جلالت مرتبت اس حد تک ہے کہ مولوی محمود الحسن اسیر مالٹانے ان کی وفات پر جومر ثیہ کہا اس میں ان کو بانی اسلام کا ثانی تک قرار دیا ہے۔( مرثیہ بروفات مولا نا رشید احمد گنگوہی صفحہ 6 جناب گنگوہی صاحب نے اپنے فتاوی میں لکھا ہے کہ:۔احیائے حق کے واسطے کذب درست ہے ، مگر تا امکان تعرض سے کام لیوے اگر ناچار ہو تو کذب صریح بولے۔“ (فتاوی رشیدیہ کامل مبوب صفحہ 460 نا شرمحمد سعید اینڈ سنز تاجر کتب قرآن محل کراچی۔) یہی نقطہ نگاہ سید حسین احمد صاحب مدنی کا ہے۔جو انہوں نے ”نقش حیات میں بیان کیا ہے۔(ملاحظہ ہو نقش حیات جلد دوم صفحه 625 ناشر دار الاشاعت کراچی) بانی جماعت اسلامی سید ابو الاعلیٰ صاحب مودودی نے ترجمان القرآن شعبان 1377ھ بمطابق فروری 1958ء صفحہ 118 میں کھلے لفظوں میں اس کی تائید کی ہے اور کہا ہے کہ یہ غلط ہے کہ ہر موقع پر سچائی پر عمل کرنا چاہئے ، بعض اوقات جھوٹ بولنا واجب ہے۔