اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 203 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 203

203 گیا۔دنیا نے کس پاک اور برگزیدہ سے اس کے زمانے میں محبت کی تا حسین سے بھی محبت کی جاتی “۔اشتہار "تبلیغ الحق 18 اکتوبر 1905ء - مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 653-654) اب آخر میں صرف چند شعر سنانا چاہتا ہوں حضرت امام حسین علیہ السلام کی منقبت میں۔حسین کا لفظ جب ایک احمدی کے سامنے آتا ہے تو کر بلا کا سارا نقشہ اس کے سامنے آجاتا ہے۔حضرت سیدہ نواب مبار کہ بیگم صاحبہ کی روایت ہے۔محرم کے دن تھے۔خود مسیح موعود علیہ السلام نے ایک دفعہ اپنے سارے بچوں کو بلایا اور محرم کی کہانی دردناک انداز میں بیان کی اس صورت میں کہ حضور بھی زار وقطار رور ہے تھے اور بچوں پر بھی ایک رقت کی کیفیت طاری تھی۔عرصہ ہوا، حضرت خلیفہ اسیح الثالث کا زمانہ تھا اور حضور بھی اس وقت کراچی میں تشریف فرما تھے۔ڈاکٹر عبدالسلام صاحب سے ملاقات کا موقع تھا۔وہ سابق صدر پاکستان جنرل ضیاء الحق صاحب سے ملنے کے لئے جانا چاہتے تھے اور تفسیر کے بارے میں کوئی بات تھی۔حضور ” نے مولانا ابوالمنیر نورالحق صاحب اور مجھے ارشاد فرمایا کہ بذریعہ ہوائی جہاز فوراً پہنچو۔خیر حضرت مولانا تو بیمار تھے۔میں حاضر ہوا۔حضور کے ارشادات کی تعمیل کی۔وہ ایک دوسری بات ہے۔ان دنوں ایک اخبار میں نے دیکھا غالبا صداقت اس کا نام تھا۔اس میں حفیظ ہوشیار پوری کے قلم سے مرثیہ میں نے پڑھا۔وہ چارا شعار ایسے ہیں کہ میرے دل پر نقش ہیں ہمیشہ کے لئے۔وہ اس طرح پر تھے۔جو حسن میں بھی لاثانی تھا کربل میں علی کا ثانی تھا جو پیاس سجائے پھرتا تھا لاشوں اٹھائے پھرتا تھا تنها تھا مگر ہے دینوں جو دین بچائے پھرتا اللهم صل على محمد و آل محمد۔ول تھا