اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 197 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 197

197 کہ نبی سے مراد حقیقتا نبی ہے اور ہمارے لاہوری احمدی بزرگ جو ہیں وہ کہتے ہیں کہ اس سے مراد محدث ہے۔بس اتنا فرق ہے۔کہنے لگے ہاں اس بارے میں تو آپ ٹھیک کہتے ہیں لیکن اصل سوال ایک اور ہے۔میں نے کہا وہ کیا ہے۔کہنے لگے کہ جی اصل سوال یہ ہے کہ الیکشن ہوا اور اس میں آپ نے کمیونسٹ پارٹی ، پیپلز پارٹی والوں کو ووٹ دیئے اور جن پارٹیوں میں ہم علماء موجود تھے آپ نے ان کو نظر انداز کر دیا۔یہ ایک الہی جماعت کے لئے تو زیب نہیں دیتا جو کہ مذہبی اور مسلمان ہونے کی علمبر دار ہو۔اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے۔میں نے اس وقت جو میرے پاس چند کتا ہیں تھیں ان میں جلدی میں اور یہی چیز دراصل اسمبلی میں ہوئی اور اس کے پیچھے چونکہ حضرت خلیفہ اسیح الثالث کی روحانیت اور توجہ کام کرتی تھی اسمبلی میں بھی اور ان جلسوں میں بھی جن میں حضور کے ارشاد پر میں شامل ہوتا تھا۔تو اسی توجہ میں میں نے جلدی میں وہ کتاب رکھ لی۔حالانکہ بظاہر یوم مسیح موعود سے اس کا کوئی تعلق نہیں تھا۔وہ مولانا مودودی صاحب کی کتاب تھی اور ”جماعت اسلامی کا انتخابی نظریہ تقریباً یہی نام تھا اس کا۔یہ اس وقت کا کتابچہ تھا جو انہوں نے پاکستان کے بعد 1950ء میں پنجاب میں ہونے والے سب سے پہلے الیکشن کے زمانہ میں لکھا تھا۔اس میں یہ لکھا کہ مسلم لیگ تو ایک پر لے درجے کی ذلیل جماعت ہے اور اس کی وجہ سے ہی ساری گندگی پاکستان میں پھیلی ہوئی ہے، اس سے نجات حاصل کرنا ضروری ہے۔مگر حدیث میں لکھا ہے اور بہت سی حدیثوں میں ہے بلکہ مسلم شریف میں کتاب الامارۃ میں کئی حدیثیں ہیں کہ خدا کی قسم ! آنحضور ﷺ کی خدمت میں ایک شخص آیا اور اس نے کوئی عہدہ طلب کرنے کی کوشش کی۔حضور نے فرمایا خدا کی قسم ! ہم کسی عہدہ طلب کرنے والے کو کوئی عہدہ دینے کے لئے تیار نہیں ہیں۔اس سے بڑھ کر کوئی خائن نہیں ہے۔میں نے کہا یہ آنحضرت ﷺ کی حدیث تھی۔یہ سب علماء خواہ مودودی ہوں خواہ بریلوی ہوں، خواہ جماعت اسلامی سے ان کا تعلق ہو یا کسی اور جماعت سے ان کا تعلق ہو۔وہ ان حدیثوں کو ساری عمر پڑھتے رہے، درس دیتے رہے، کتابیں چھاپتے رہے۔بھٹو تو ایک سیاستدان ہے۔( بھٹو