اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 192 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 192

192 کا مطالبہ خود اقلیت کیا کرتی ہے۔دنیا میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کوئی دوسری قوم کسی کے لئے اقلیت کا مطالبہ کرے۔احمدی تو اس بات کا مطالبہ ہی نہیں کرتے اور اقلیت کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ نظام حکومت کو چلانے کے لئے خواہ وہ فیڈرل سسٹم ہو اور خواہ وہ ایسا سسٹم ہو جس میں کہ مرکزیت ایک جماعت کو حاصل ہو۔اس میں جو Majority رکھنے والی جماعت ہوتی ہے اس کو تو تمام حقوق حاصل ہوتے ہیں لیکن چھوٹی کم تعدا در کھنے والے جو لوگ ہیں وہ اکثر اپنے معاشی حقوق سے محروم ہو جاتے ہیں۔سول ملازمتوں میں ان کو پیچھے رکھا جاتا ہے۔اب دیکھیں مسلمان پاکستان سے زیادہ ہندوستان میں ہیں اور وہ اقلیت میں ہیں اور حکومت ہندوستان ان کو اقلیت میں شمار کرتی ہے مگر اس کے باوجود آپ دیکھیں وہ دس کروڑ اقلیت میں ہیں۔جس طرح انہوں نے ہمارے متعلق کہا کہ تم اقلیت میں ہو۔خود مسلمانوں نے کہا کہ ہمیں یہاں اقلیت کے حقوق دئے جاتے ہیں اور آج تک مسلمان یہی کہہ رہے ہیں۔یہ نہیں کہ اس کو مرتد قرار دے کر قتل کر دیا جائے جس طرح کہ ملاں کا مذہب ہے۔جب یہ لوگ ہمارے متعلق اقلیت کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔تو ان کے محضر نامہ میں تھا کہ مرتد اقلیت شمار کیا جائے۔حالانکہ یہ کوئی Terminology دنیا میں نہیں۔رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں دیکھیں کہ اسلام کی پہلی حکومت تھی مدینہ کی۔اس میں کوئی اقلیت یا مرتد اقلیت کا کوئی لفظ موجود تھا؟ وہاں تو میثاق مدینہ میں رسول پاک ﷺ نے جو اس وقت الفاظ لکھے، یہ ہیں کہ مدینہ کے یہود امت اسلام میں شامل ہیں۔جو حقوق مسلمانوں کو حاصل ہیں وہ مدینہ کے رہنے والے یہودیوں کو بھی حاصل ہیں۔وہاں کوئی اقلیت کا تصور ہی نہیں تھا۔مرتد اقلیت تو آج ملاں نے بنایا ہے فیج اعوج کے زمانہ کے بعد۔اقلیت جو کہ آج دنیا میں تین چار صدیوں سے مروج ہے۔اقلیت کا معاملہ جو تھا ہندوستان میں بھی سب سے بڑا رہا کیونکہ مسلمان اقلیت میں تھے۔حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب، سر آغا خان صاحب، حضرت قائد اعظم ان سب نے یہ کہا کہ اگر ہم اقلیت میں ہیں تو ہمارے حقوق کو محفوظ کرنا ضروری ہے۔دنیا کی کوئی طاقت ایسی نہیں ہے جو مسلمانوں کو محروم کر سکے۔یہ ٹھیک ہے کہ ہم مسلمان اقلیت میں ہیں۔مگر ہم مستقل قوم ہیں۔اس واسطے جب تک کہ ہمارے حقوق محفوظ نہیں