اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 190
190 کیا احمدی اپنے آپ کو اقلیت سمجھتے ہیں؟ ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب:۔جزاکم اللہ۔ایک سوال الفضل 13 نومبر 1946 ء کے حوالے سے کیا گیا تھا کہ اس میں حکومت برطانیہ سے عرضداشت کی گئی ہے کہ پارسیوں کی طرح ہمیں بھی علیحدہ حقوق دیئے جائیں، گویا آپ لوگ پہلے دن سے ہی اپنے آپ کو مسلمانوں سے الگ اقلیت سمجھتے ہیں۔اس کا جواب حضور نے کیا دیا تھا؟ مولانا دوست محمد شاہد صاحب :۔اس کا نہایت پیارا جواب تھا۔حضور نے فرمایا کہ حضرت مصلح موعودؓ نے یہ خطبہ تو آل انڈیا مسلم لیگ کی تائید میں دیا تھا اور اس میں آپ نے یہ ذکر فرمایا تھا کہ ہم لوگ تحریک پاکستان کی پر زورحمایت کر رہے ہیں۔ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب:۔یہ حضرت مصلح موعود نے اس خطبہ میں بیان فرمایا ہے۔؟ مولانا دوست محمد شاہد صاحب:۔اس خطبہ میں حضور نے برطانیہ کو مخاطب کرتے ہوئے اور لک کے سامنے، سیاسی جماعتوں کے سامنے اپنا نظریہ اور اپنا مسلک پیش کیا تحریک پاکستان کے سلسلے میں۔فرمایا کہ ہم احمدیوں کی پارسیوں سے بڑھ کر تعداد ہے اور پاکستان کی جو مخالف تحریکیں ہیں، انہوں نے اپنی تحریک کو مضبوط بنانے کے لئے بعض دوسرے غیر مسلموں کو پاکستان کی تحریک کے خلاف استعمال کیا ہے اور حکومت برطانیہ نے بھی ان دوسری جماعتوں کو جو Pro Congress ہیں ان کو ایک مستقل اقلیت کی حیثیت سے قانون میں جگہ دی ہے اور اس کے نتیجے میں کانگریس کو بڑی تقویت ہوئی اور وہ اپنے اس موقف کو اور زیادہ زور دار پیرا یہ میں بیان کر رہی ہے کہ کانگریس حقیقتا آل انڈیا پلیٹ فارم پر مخاطب ہو رہی ہے اور وہی دراصل آئینی اور جمہوری انداز سے ملک کی اصل تنظیم ہے اور اصل وہی وکیل ہے۔تو اس واسطے یہ نتیجہ نکلا کہ پارسیوں کو اور دوسرے فرقوں کو جو مذہبی فرقے کہلاتے ہیں ان کو گورنمنٹ نے بحیثیت اقلیت کے حقوق دیئے۔مگر جماعت احمد یہ جو کہ تائید کرتی ہے مسلم لیگ کی ، ہمیں کیوں وہ حقوق نہیں دیئے جاتے؟ تاکہ پاکستان کی تحریک کے حق میں جو پراپیگنڈہ ہے، اس میں اور زیادہ قوت پیدا ہو جائے۔یہ تو حضرت مصلح موعودؓ نے جواب دیا تھا۔اور اسی کو حضرت خلیفہ اسیح