اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 189
189 ذہن میں ہیں مسلمان سمجھتا ہوں۔پس جب میں کافر کا لفظ استعمال کرتا ہوں تو میرے ذہن میں دوسری قسم کے کا فر ہوتے ہیں جن کی میں پہلے ہی وضاحت کر چکا ہوں۔یعنی وہ جو ملت سے خارج نہیں۔جب میں کہتا ہوں کہ وہ دائرہ اسلام سے خارج ہیں تو میرے ذہن میں وہ نظریہ ہوتا ہے جس کا اظہار کتاب مفردات راغب کے صفحہ 240 پر کیا گیا ہے۔جہاں اسلام کی دو قسمیں بیان کی گئی ہیں، ایک دون الایمان اور دوسرے فوق الایمان۔دون الایمان میں وہ مسلمان شامل ہیں جن کے اسلام کا درجہ ایمان سے کم ہے۔فوق الایمان میں ایسے مسلمانوں کا ذکر ہے جو ایمان میں اس درجہ ممتاز ہوتے ہیں کہ وہ معمولی ایمان سے بلند تر ہوتے ہیں، اس لئے جب میں نے یہ کہا تھا کہ بعض لوگ دائرہ اسلام سے خارج ہیں تو میرے ذہن میں وہ مسلمان تھے جو فوق الایمان کی تعریف کے ماتحت آتے ہیں۔مشکوۃ میں بھی ایک روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ جو شخص کسی ظالم کی مدد کرتا اور اس کی حمایت کرتا 66 ہے وہ اسلام سے خارج ہے۔تحقیقاتی عدالت میں حضرت امام جماعت احمدیہ کا بیان ، صفحہ 14-15 ناشر دار التجلید اردو بازار لاہور ) یہ جواب تھا جو حضرت مصلح موعودؓ نے تحقیقاتی عدالت میں پیش کیا اور اس کو حضرت خليفة أصبح الثالث نے پوری شان کے ساتھ دانشوران پاکستان کے سامنے پیش کیا تھا۔اب اس میں ، میں سمجھتا ہوں عربی کے الفاظ روایت رسول کے بیان ضرور ہونے چاہئیں اور یہ روایت علامہ سیوطی نے لکھی ہے۔اصل کنز العمال میں دوسری جگہ بھی موجود ہے۔” من مشى مع ظالم و هو يعلم انه ظالم فقد خرج من ربقة الاسلام جو شخص کسی ظالم کے ساتھ ہوا اور اسے پتا ہے کہ یہ ظالم ہے اور غاصب ہے فرمایا فقد خرج من ربقة الاسلام وہ دائرہ اسلام سے خارج ہو گیا۔“