اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 187
187 موجود ہے۔اب میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ کیا یہ حضرت فاطمہ کے ساتھ ہی مخصوص تھا کہ اگر وہ چوری کرتیں تو ان کے ہاتھ کاٹ دیئے جاتے۔باقی سارے چوروں کو قیامت تک کے لئے رسول اللہ نے کھلی چھٹی دے دی کہ اگر وہ چوری کریں گے تو ان کو تو میں کچھ نہیں کہوں گا لیکن اگر میری بیٹی نے سرقہ کا ارتکاب کیا تو میں ضرور اس کے ہاتھ کو کاٹ دوں گا۔میں نے کہا کیا یہ معنی ہیں؟ کون ظالم ہے جو یہ معنی پیش کرتا ہے۔اس کے ایک ہی معنی ہیں کہ یہ ایسا خطرناک جرم ہے کہ اگر فاطمہ میری لخت جگر ہے جو سیدۃ النساء اهل الجنة ہے۔(صحیح البخاری کتاب اصحاب النبی الله بهاب مناقب فاطمة عليها السلام ) جو حسن اور حسین کی والدہ ہیں جو خودشبان جنت کے سردار ہونے والے ہیں۔اگر ایسی برگزیدہ شخصیت بھی خدا کے حکموں کو توڑنے والی ہوگی تو میں حد کو ضرور جاری کروں گا۔پس اس آیت کے یہی معنی ہیں کہ یہ ایسا خطرناک جرم ہے خدا کے قانون ، آسمان کے قانون میں کہ اگر محمد رسول اللہ اللہ جیسا انسان جو شاہ لولاک ہیں ، جو شہنشاہ نبوت ہیں، جن کی خاطر کائنات بنائی گئی ، جن کے استقبال کے لئے اور انتظام کے لئے تمام نبیوں کو بھیجا گیا، اگر وہ بھی اس کا ارتکاب کرتے تو خدا کی جو قہری تجلی تھی وہ ضرور اس سے انتقام لینے کے لئے حرکت میں آ جاتی تو مرزا غلام احمد صاحب کی کیا حیثیت ہے محمد رسول اللہ اللہ کے مقابل پر۔تو خدا نے بتانے کے لئے کہ یہ خطرناک ترین جرم ہے جو کہ کسی انسان سے سرزد ہو سکتا ہے۔جس جرم میں رسول اللہ کو خدا تعالیٰ نہیں چھوڑ سکتا وہ بانی جماعت احمدیہ کو کیسے چھوڑ سکتا تھا !! میں نے آخر میں ان کو بتایا کہ یہانی واضح بات ہے کہ ابن حزم اور عیسائیوں کے مقابلہ پر حربہ ہی یہی استعمال کیا ہے، وہ ہمیشہ چیلنج کرتے رہے ہیں۔اس کے سوا اور کوئی دلیل نہیں تھی کہ بتاؤ دنیا میں کوئی ایسا انسان کہ جس نے آنحضرت علی کی طرح نبوت کا دعویٰ کیا ہواور دعویٰ کرنے کے باوجود تئیس سال تک ان کو خدا نے زندگی عطا فرمائی ہو۔میں نے کہا یہ معیار تھا جو عیسائیوں کے سامنے متکلمین اسلام بغداد سے لے کر ہندوستان تک استعمال کرتے چلے آئے۔یہی ہتھیار ہے اور یہی Criterion ہے جو آج مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت ثابت کرنے کے لئے بالکل نمایاں ہے۔خدا کے فضل سے انہوں نے اس کے بعد بیعت کا اعلان کیا۔متکلمین نے