اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 174 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 174

174 آگے سنیں! جماعت اسلامی کے نعیم صدیقی صاحب کہتے ہیں۔احرار کے متعلق انہوں نے رسالہ ” چراغ راہ کراچی مارچ 1954 ء صفحہ 18 پر ان کی تحریک ختم پاکستان، جس کو یہ تحریک تحفظ ختم نبوت کہتے ہیں، تبصرہ کیا ہے۔تحقیقاتی عدالت نے اس کو تحریک ختم پاکستان“ قرار دیا ہے اور بتایا ہے چوہدری فضل الہی صاحب کے بیان کے ذریعہ سے جو اس وقت حکومت پنجاب کے وکیل کے طور پر تحقیقاتی عدالت میں پیش ہوئے تھے۔فاضل ججوں نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ دراصل دولتانہ صاحب یہ چاہتے تھے کہ مذہب کے نام پر ایسی ایجی ٹیشن چلائی جائے کہ خواجہ ناظم الدین کو الگ کر دیا جائے اور ان کے بعد پھر مجھے پرائم منسٹر بنا دیا جائے اور اس کے بعد ان کے چونکہ کمیونسٹوں کے ساتھ مراسم تھے۔ان کا ارادہ یہ تھا کہ پاکستان کو کمیونسٹ حکومت بنادیا جائے۔رپورٹ تحقیقاتی عدالت 1953 ، صفحہ 304) مسلمان کمیونسٹوں میں سر فہرست تو مجلس احرار ہی ہیں۔اس واسطے گٹھ جوڑ ہوا۔ورنہ ارادہ دولتانہ کا یہی تھا کہ یہاں پر کمیونزم کو لایا جائے۔تو یہ 1953ء کے حالات پر تبصرہ کر رہے ہیں نعیم صدیقی صاحب۔کہتے ہیں:۔ان کی زبان اور ان کا انداز بیان بسا اوقات رکاکت اور ابتذال (یعنی بازاری زبان۔ناقل ) اور تمسخر (جو کہ خدا کے نبیوں کے خلاف کیا جاتا ہے۔ناقل ) اور استہزاء کے حد کو چھو جانے کی وجہ سے کبھی اپیل نہیں کر سکا۔“ پھر مولوی عبدالرحیم صاحب اشرف جو کبھی بہت پکے احراری تھے اور کئی مناظرے ہوئے اور (حضرت سیدہ آبا طاہرہ صدیقہ صاحبہ کے والد حضرت خان عبدالمجید صاحب نے اپنے قلم سے مجھے لکھ کر جو تحریر دی۔وہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ” تاریخ احمدیت“ کی زینت بنے والی ہے۔اس میں ان کا خاص طور پر ذکر کیا ہے کہ یہ پکے احراری تھے اور انہوں نے ہر جگہ پر احمدیت کی مخالفت کی۔لکھتے ہیں:۔” استہزاء، اشتعال انگیزی ، یاوہ گوئی ، بے سروپا لفاظی ، اس مقدس نام کے ذریعے مالی غبن ، لا دینی سیاست کے داؤ پھیر ، خلوص سے محروم اظہار جذبات، مثبت اخلاق فاضلہ سے تہی کردار، ناخدا ترسی سے بھر پور مخالفت کسی بھی غلط تحریک کو ختم نہیں کر سکتی اور ملت اسلامیہ پاکستان کی ایک اہم محرومی یہ "