اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 173 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 173

173 اب اس کا تو صاف مطلب ہے کہ قرآن مجید اور اس کے حقائق ، اس کے دقائق اور آنحضور کی سیرت مقدسہ پیش کرو تا کہ جس طرح ابتداء میں اسلام میں آنے والے لوگ سیرت رسول اور قرآن کے دلائل کے ذریعہ سے محمد عربی علیہ کے قدموں میں آئے تھے وہ تمہارے اس جہاد بالسان کے ذریعے سے رسول اللہ کے عاشق بن جائیں۔مگر احراری ملاں اور ان کے بڑے بڑے پیر و مرشد جو گزرے ہیں جنہیں محدث قرار دیا جاتا ہے۔بڑا چرچا ہے کہ جی حدیث کے علوم کا سر چشمہ دیو بند شریف ہے۔اب اس حدیث کا مفہوم کیا بیان کیا جاتا ہے۔مشکوۃ کے حاشیہ میں بھی درج ہے اور مکتبہ نعمانیہ میں یا جس جگہ سے بھی یہ دوبارہ چھپی، ہے اس کے حاشیہ میں یہ لکھا ہے ” بان تخوفوهم و توعدوهم“ جہاد باللسان کے معنی یہ ہیں کہ تم مشرکوں کو ڈراؤ دھمکاؤ۔”بالقتل و الاخــذ ان کو دھمکی دو کہ اگر نہیں مانو گے تو ہم تمہیں قتل کر دیں گے۔یہ جہاد باللسان ہورہا ہے والاخذ والنهب تمہارے مالوں کو لوٹ لیں گے۔”و نحو ذلک و بان تذموهم و هم “ ان کو برا بھلا بھی کہو اور گالیاں بھی دو۔( ناشر نور محمد مالک اصبح المطابع و کارخانه تجارت کتب بالمقابل آرام باغ فریر روڈ۔کراچی صفحہ 332) یہ جہاد باللسان ہے جناب۔اب یہ جہاد باللسان جس طرح کر رہے ہیں، ڈاکٹر غلام جیلانی برق صاحب لکھتے ہیں۔جو معاندین احمدیت کی صف اول میں شامل ہیں لیکن اقرار کیا ہے۔خدا نے اقرار کروایا ہے۔فرماتے ہیں:۔آج تک احمدیت پر جس قد رلٹریچر علمائے اسلام نے پیش کیا ہے اس میں دلائل کم تھے اور گالیاں زیادہ۔ایسے دشنام آلود لٹریچر کو کون پڑھے اور مغلظات کون سنے۔میٹھے انداز اور ہمدردانہ رنگ میں کہی ہوئی بات پر ہر شخص غور کرتا ہے۔مگر گالیوں کو کوئی نہیں سنتا۔“ ان کی کتاب ” حرف محرمانہ طبع اوّل 1954ءصفحہ 11 اور 12 پر یہ اقتباس ہے۔” شیخ غلام علی اینڈ سنز لاہور کے مشہور ناشر ادارے نے یہ اہتمام شیخ نیاز احمد پرنٹر و پبلشر اس کو شائع کیا ہے۔یہ وہی کتاب ہے جس کا جواب میرے استاد حضرت مولانا قاضی محمد نذیر صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ و نور اللہ مرقدہ نے ” تحقیق عارفانہ کے نام سے شائع کیا ہے۔