اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 171 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 171

171 ابوالعطاء کیوں نہ کہہ دیا۔کہنے لگے بات یہ تھی کہ ابو العطاء کے معنی ہیں عطاء کا باپ تو میں نے گوارا نہ کیا کہ دل میں یہ نہ محسوس کریں کہ وہ عطاء اللہ شاہ بخاری ہے اور میں اپنے تئیں اس کا باپ کہتا ہوں۔حضرت مسیح موعود نے تقویٰ کی راہیں بیان کی ہیں تو میں نے اپنا پہلا نام بیان کیا ہے۔یہ ایک ضمنی بات آ گئی تھی۔سٹاف رپورٹر کا تذکرہ میں کر رہا تھا۔عجیب بات یہ ہے کہ یہ جو میں اس وقت پڑھ رہا ہوں ید امروز سے براہ راست نہیں پڑھ رہا۔”امروز کا پرچہ میرے پاس محفوظ ہے۔یہ میں مشہور احراری جانباز مرزا کی کتاب ”حیات امیر شریعت سے پڑھ رہا ہوں۔اس میں انہوں نے خاص اہتمام سے اس کو درج کیا ہے امیر شریعت کے تبرکات کے اعتبار سے۔یہ صفحہ 436 ہے جو میں اس وقت پڑھ رہا ہوں اور کتاب کے اوپر لکھا ہے ”حیات امیر شریعت اور آگے لکھا ہے ان کی پہلی مکمل اور مستند سوانح حیات۔لکھتے ہیں۔میں نے پوچھا شاہ جی سے ان دنوں جبکہ آپ اس قدر بیمار ہیں اور پبلک لائف سے بھی ریٹائر ہو چکے ہیں، کبھی دیرینہ رفقاء میں سے کوئی ملنے آیا؟“ یہ سوال سٹاف رپورٹر نے کیا لکھا ہے۔تو جواب میں مسکرائے اور کہا بیٹا! جب تک یہ کتیا ( زبان ) بھونکتی تھی ،سارا برصغیر ہند و پاک ارادتمند تھا۔اس نے بھونکنا چھوڑ دیا ہے تو کسی کو پتا ہی نہیں رہا کہ میں کہاں ہوں۔“ میں نے کہا اب آگے چلیں۔میں نے یہ بتایا تھا کہ یہ شاہ جی کی جو سنت ہے اور کچھ ہو یا نہ ہو جس طرح بخاری صاحب نے کہا تھا کہ شریعت نہ ماننے کے لئے ان ظالموں نے میرا نام امیر شریعت رکھ دیا ہے۔(فرمودات امیر شریعت صفحہ 78 ناشر مکتبہ تعمیر حیات چوک رنگ محل۔لاہور ) لیکن شاہ جی کی اس سنت کو کسی احراری مولوی نے نہیں چھوڑا۔حتی کہ اسمبلی میں بھی نہیں چھوڑا اور آج تک بھی نہیں چھوڑا۔یعنی نام ختم نبوت کا ہو گا کہ آج یوم ختم نبوت منایا جارہا ہے اور اس میں مسیح موعود کو گالیاں ضرور دیں گے۔یہ احرار کا سرکاری آرگن آزاد " 27 ستمبر 1958ء ہے جس کا حوالہ میں پیش کر رہا