اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 170 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 170

170 کتوں کو بھونکتا چھوڑو حضرت قائد اعظم بھی مخاطب ہیں۔مسلم لیگی زعماء بھی مخاطب ہیں۔تحریک پاکستان کا ہر علمبر دار مخاطب ہے۔یہ یکم دسمبر 1941 ء کی تقریر ہے۔کتوں کو بھونکتا چھوڑو۔کاروان احرار کو اپنی منزل کی طرف چلنے دو۔احرار کا وطن لیگی سرمایہ دار کا پاکستان نہیں۔احرار اس ”پاکستان“ کو ”پلیدستان سمجھتے ہیں“۔(صفحہ 99،83) یہ ریلوے روڈ لاہور کی چھپی ہوئی کتاب ہے۔اور ان کے Socalled محافظ ختم نبوت شورش کاشمیری نے اس کو شائع کیا ہے۔وہی اس وقت جنرل سیکرٹری تھے۔شائع کرنے والا مکتبہ احرار لاہور ہے۔بار اول مارچ 1944 ء۔میں نے کہا خدا کے الفاظ یہ تھے کہ پیشگوئی تو پوری ہو جائے گی مگر کتے پھر بھی بھونکتے رہیں گے۔اب دیکھیں شریعت احرار کے امیر صاحب نے جوا بھی حال ہی میں بیان دیا ہے وہ کیا ہے۔امروز کا سٹاف رپورٹر کہتا ہے کہ میں نے شاہ صاحب سے پوچھا یعنی سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری امیر شریعت احرار، (احرار کی شریعت کے امیر ) "شاہ جی آپ کو ذیا بیطیس کی شکایت کب سے ہے۔جواب دیا یہ مرض سکھر جیل میں میرے ساتھ آلگا تھا۔ابھی تک سنگت نبھا رہا ہے“۔اُن دنوں جبکہ آپ اس قدر بیمار تھے۔یہ فالج کے حملہ سے بیکار ہو گئے۔حضرت مولانا ابوا لعطاء صاحب اور مکرم مولانا غلام باری سیف صاحب بھی ملنے کے لئے گئے تھے۔حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب سے بخاری صاحب نے پوچھا کہ آپ کا نام کیا ہے، تو مولانا ابوالعطاء صاحب کا نام تو ان کو اچھی طرح یاد تھا۔لیکن حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب نے کہا کہ ( یہ مجھے عبدالحفیظ صاحب ایڈووکیٹ نے بعد میں بتائی جو آج کل میرے خیال میں کینیڈا میں ہیں۔حضرت مولانا ابو العطاء صاحب 1934 ء سے پہلے ان کو جس نام سے یاد کیا جاتا تھا۔پیدائشی نام اللہ دتہ تھا ) کہنے لگے کہ جی میرا نام اللہ دتہ ہے۔جب واپس آئے تو چوہدری عبد الحفیظ صاحب نے ”خالد احمدیت سے پوچھا کہ حضرت یہ تو پرانا نام ہے اور احمدی نوجوانوں کے سامنے یہ بیگانہ سا ہے۔تو آپ نے