اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 169
169 میں اور جنت البقیع میں سپردخاک کی گئیں۔تو اس وقت آنحضرت کے عقد میں جبکہ یہ سورۃ تحریم نازل ہوئی ام المؤمنین حضرت سودہ تھیں ، ام المؤمنین حضرت عائشہ ام المؤمنین حضرت حفصہ ام المؤمنین حضرت ام سلمہ ، ام المؤمنین حضرت زینب ، ام المؤمنین حضرت جویریہ (حضرت ابراہیم کی والدہ) 66 اور ام المؤمنین حضرت ام حبیبہ ، ام المؤمنین حضرت میمونہ ، ام المؤمنین حضرت صفیہ تو یہ نوتھیں۔خدا فرماتا ہے کہ یقینی طور پر ان بیویوں کے بدلے میں خدا تعالیٰ ان سے بہتر نو تمہیں عطا کرے گا۔میں نے کہا کہ مرزا صاحب نے تو ایک محمدی بیگم کی بات کی تھی یہاں تو نو محمدی بیگم کی بات کی گئی ہے۔کیونکہ محمدی بیگم کے معنی ہی یہی ہیں جو محمد رسول اللہ کی بیگم ہو۔تو نو محمدی بیگم کے دیئے جانے کا عرش کے خدا نے وعدہ کیا تھا۔بتاؤ ایک بھی ملی ہے یا نہیں ملی۔کہنے لگا کہ جی اس میں شرط تھی۔میں نے کہا کہ محمدی بیگم کے بارے میں بھی شرط تھی۔یہ مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے۔میں نے کہا دوسری بات یہ ہے کہ یہ پیشگوئی ایسی ہے کہ اس کا اقرار تو خود آپ کی شریعت کے امیر شریعت احرار کے امیر عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری اور تمام احراری حضرات کرتے ہیں۔کہنے لگے وہ کیسے! ان دنوں امروز کے سٹاف رپورٹر نے ایک انٹر ویو عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری سے لیا تھا۔وہ امروز میں شائع ہوا۔اس وقت امروز“ کا ایک ایڈیشن ملتان سے چھپتا تھا۔ایک لاہور سے چھپتا تھا۔تو میں جس وقت پرالی کی مہم پر چلا ہوں وہ اس وقت ایک آدھ دن قبل مجھے ملا وہ میں نے ساتھ ہی رکھ لیا۔کیونکہ میں نے کوئی سفر نہیں کیا جس میں کوئی کتاب نہ ہو کیونکہ دعوت الی اللہ تو بنیاد ہے ہماری تو وہ میں نے اپنے بیگ میں رکھ لی۔حافظ آباد جب گیا تو اس وقت بیگ میں میرے پاس تھا۔میں نے کہا جی بانی جماعت احمدیہ کی پیشگوئی اتنی تھی۔الہام میں يَمُوتُ وَ يَبْقَى مِنْهُ كَلَابٌ مُّتَعَدِّدَة کہ بالآخر خدا کی تقدیر یہ ہے کہ خاندان میں دو نہیں مریں گے ، ایک ہی مرے گا یعنی مرزا احمد بیگ ( محمدی بیگم کا والد ) اور چونکہ خاوند تو بہ کی وجہ سے بچالیا جائے گا۔تو عیسائی اور ان کے ہمنوا جتنے بھی ملاں ہوں گے وہ استہزاء کریں گے اور الفاظ یہ تھے يَمُوتُ وَيَبْقَى مِنْهُ كلابٌ مُتَعَدِّدَة کتے بھونکتے رہیں گے۔یہ جو بھونکنے کا لفظ ہے یہ تو ان کی زبانوں پر چڑھا ہوا ہے۔چوہدری افضل حق نے ایک دفعہ اپنے خطبات " خطبات احرار صفحہ 99 میں پاکستان کی تحریک کے علمبرداروں کو مخاطب کر کے لکھا۔اندازہ کریں۔