اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 168
168 کہ یہ اس شان کی پیشگوئی ہے کہ مسیح موعود کی سچائی کے لئے کافی ہے۔اک نشاں کافی ہے گر دل میں ہو خوف کر دگار ع اس پر میں نے جو بات کہی سب سے پہلی تو ی تھی کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ایک آیت میں آنحضرت ﷺ سے وعدہ کیا ہے کہ اگر تو ان نو بیویوں کو طلاق دے دے گا تو اس کے بدلے میں ان سے اچھی محمدی بیگم تمہیں عطا کی جائیں گی۔کم از کم 9 محمدی بیگم کا خدا نے محمد رسول اللہ علے سے وعدہ کیا تھا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔یہ سورۃ التحریم ہے اور آیت ہے چھ۔فرمایا۔عَسَى رَبُّهُ إِنْ طَلَّقَكُنَّ أَنْ يُبْدِلَهُ أَزْوَاجاً خَيْرًا مِنْكُنَّ مُسْلِمَاتٍ مُؤمِنَاتٍ قَانِتَاتٍ تَائِبَاتٍ عَابِدَاتٍ سَائِحَاتٍ ثَيِّبَاتِ َو اَبْكَارًا (التحريم: (6) فرمایا۔عَسى رَبُّه قریب ہے کہ محمد رسول اللہ کا خدا، اگر اے ازواج رسول تمہیں طلاق دے دے تو وہ تم سے زیادہ اچھی بیویاں بدل کر اس کو دے دے، جو مسلمان بھی ہوں، مومن بھی ہوں ، فرمانبردار بھی ہوں، تو بہ کرنے والی، عبادت کرنے والی، روزہ رکھنے والی ، بیوہ بھی ہوں اور کنواریاں بھی۔اب اس میں عسی رَبُّہ کا لفظ ہے۔یاد رکھیں جب خدا کے لئے عیسیٰ کا لفظ آئے تو وہ شک کے لئے نہیں ہوتا۔علامہ سیوطی نے بھی اتقان میں لکھا ہے کہ اللہ کے لئے جب عسی کا لفظ آئے تو وہ یقین کے معنوں میں ہوتا ہے۔دیکھیں سورۃ بنی اسرائیل میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے عسی آنُ يُبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا (الاسراء: 80) قریب ہے یا رسول اللہ کہ آپ کو مقام محمود پر فائز کیا جائے۔اب یہ نہیں کہہ سکتے کہ جی یہ شک والی بات ہے۔ممکن ہے کہ مقام محمود نہ عطا کیا جائے۔مگر تمام مفسر یہ تسلیم کرتے ہیں اور اس کے بغیر چارہ کار کوئی نہیں ہے کہ یہ یقینی بات ہے۔تو خدا نے فرمایا یہ یقینی بات ہے " عسى رَبُّهُ ، جس طرح محمدی بیگم کے متعلق بھی حضور نے فرمایا تھا کہ یہ خدا کا وعدہ ہے کہ جب اس کا خاوند مر جائے گا تو بیوہ ہو جانے کے بعد ضرور میرے پاس آئے گی۔تو یہاں اسی یقین کے ساتھ خدا نے رسول اللہ سے وعدہ کیا ہے اس وقت حضور علیہ السلام کے عقد میں جو بیویاں تھیں ان کی تعداد 9 تھی۔حضرت خدیجہ کا پہلے انتقال ہو چکا تھا سورہ تحریم سے پہلے اور حضرت ام المساکین بھی وفات پا چکی تھیں۔خود حضور علیہ السلام نے ان کا جنازہ پڑھامد بینہ