اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 165 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 165

165 بیگم کے بیٹے تھے۔مرزا محمد اسحاق بیگ صاحب پھر لکھتے ہیں: اس پیشگوئی کو ہر جگہ پیش کر کے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ اس کا پورا ہونا ثابت کرو حالانکہ وہ بھی صفائی کے ساتھ پوری ہوگئی۔میں اس پیشگوئی کے متعلق ذکر کرنے سے پیشتر یہ بیان کر دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ یہ ایک انذاری پیشگوئی تھی اور ایسی انداری پیشگوئیاں خدا تعالیٰ اپنے نبی کے ذریعہ اس لئے کراتا ہے کہ جن کے متعلق ہوں ان کی اصلاح ہو جائے۔چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَمَا نُرْسِلُ بِالْآيَتِ إِلَّا تَخْوِيْفًا کہ ہم انبیاء کو نشانات اس لئے دیتے ہیں کہ لوگ ڈر جائیں۔اس میں اللہ تعالیٰ نے اصل بیان فرما دیا ہے کہ ایسی انذاری پیشگوئیاں لوگوں کی اصلاح کی غرض سے کی جاتی ہیں۔جب وہ قوم اللہ تعالیٰ سے ڈر جائے اور اپنی اصلاح کی طرف رجوع کرے تو اللہ تعالیٰ اپنے متعلق عذاب بھی ٹال دیتا ہے۔جیسا کہ حضرت یونس علیہ السلام کی قوم کا واقعہ نیز حضرت موسیٰ کی قوم کے حالات ” وَ لَمَّا وَقَعَ عَلَيْهِمُ الرّجُزَ “ سے ظاہر ہے۔اس صورت میں انذاری پیشگوئی کا لفظی طور پر پورا ہونا ضروری نہیں ہوتا۔یہی نقشہ یہاں نظر آتا ہے کہ جب مرزا صاحب کی قوم اور رشتہ داروں نے گستاخی کی، یہاں تک کہ خدا تعالیٰ کی ہستی سے انکار کیا۔نبی کریم ﷺ اور قرآن پاک کی ہتک کی اور اشتہار دے دیا کہ ہمیں کوئی نشان دکھایا جائے۔تو اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ کے مامور کے ذریعہ پیشگوئی فرمائی۔اس پیشگوئی کے مطابق میرے نانا جان مرزا احمد بیگ صاحب ہلاک ہو گئے اور باقی خاندان اصلاح کی طرف متوجہ ہو گیا۔جس کا ناقابل تردید ثبوت یہ ہے کہ اکثر نے احمدیت قبول کر لی۔تو اللہ تعالیٰ نے اپنی صفت غفور و رحیم کے ماتحت قہر کو رحم میں بدل دیا۔۔۔۔۔پھر میں زور دار الفاظ میں اعلان کرتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود کی یہ پیشگوئی بھی پوری ہو گئی۔میں ان لوگوں کو جن کو احمدیت قبول کرنے میں یہ پیشگوئی حائل ہے عرض کرتا ہوں کہ مسیح الزمان پر ایمان لے