اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 1
1 بسم الله الرحمان الرحيم نحمده و نصلی علی رسوله الكريم تعارف ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب:۔ناظرین کرام ! 1974ء جماعت احمدیہ کی تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔اس سال علماء سوء نے جماعت کے خلاف طے شدہ منصوبہ کے مطابق ہنگامے کروائے۔احمدیوں کا معاشی اور اقتصادی بائیکاٹ کیا گیا ، مکان جلائے گئے ، اموال لوٹ لئے گئے ، جائیدادیں تباہ کر دی گئیں سینکڑوں احمدیوں کو بے گھر ہونا پڑا اور بہت سے احمدیوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے۔اس شر پسند گروہ کی پشت پناہی بعض بین الاقوامی طاقتوں کی سر پرستی میں حکومت وقت کر رہی تھی۔لیکن اس تکلیف دہ تصویر کا نیر تاباں کی طرح چمکتا ہوا ایک اہم اور حسین رخ یہ بھی ہے کہ خدا تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے خوف کی حالت کو امن میں بدلا اور خلافت حقہ کے ذریعہ تمکنت دین کا مظاہرہ پوری شان کے ساتھ ہوا اور جماعت احمدیہ ترقیات کے ایک نئے دور میں داخل ہو گئی۔سلسلہ احمدیہ کی تاریخ کا یہ پہلا واقعہ تھا کہ خلیفہ وقت نے بنفس نفیس ایک ایسے ایوان میں اتمام حجت فرمائی جس میں اس وقت کے چوٹی کے لیڈر شامل تھے۔ہماری مراد قومی اسمبلی 1974ء سے ہے جس میں سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ حکومت وقت کے حکم پر پیش ہوئے اور بنفس نفیس جماعت احمدیہ کا موقف اور جماعت کے بارہ میں اٹھائے جانے والے سوالات کے نہایت شاندار جواب اپنی زبان مبارک سے سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے سربرآوردہ شخصیات کے سامنے مرحمت فرمائے اور اس طرح دین حق کا پیغام ہر مکتبہ فکر تک پوری وضاحت کے ساتھ پہنچ گیا۔بہت سے ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ 1974ء کی اسمبلی میں کیا پیش ہوا۔کون کون سے سوالات اٹھائے گئے۔حضور نے ان کے کیا جواب ارشاد کئے؟ کیا فیصلہ دیا گیا ؟ سیاسی اور مذہبی لیڈروں کے اس فیصلہ کے بارے میں کیا تاثرات تھے وغیرہ وغیرہ۔قومی اسمبلی میں سیدنا حضرت