اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 142
142 اس کا جواب حضور نے کیا دیا تھا؟ مولانا دوست محمد شاہد صاحب:۔حضور نے ارشاد فرمایا کہ میرا اصل مقام خلیفہ مسیح کا امسیح ہے۔باقی جماعت کے دوست مجھے امام جماعت احمدیہ کے نام سے بھی یاد کرتے ہیں۔امیر المؤمنین بھی کہتے ہیں۔اگر غیر مسلم قرار دیا گیا تو کیا رد عمل ہوگا ؟ حافظ محمد نصر اللہ صاحب :۔ایک اگلا سوال انہوں نے یہ کیا کہ اگر آپ کو غیر مسلم قرار دے دیا جائے تو آپ کا کیا رد عمل ہوگا۔اور بات یہ پیش کی کہ اس قانون سے آپ کے سیاسی حقوق محفوظ ہو جائیں گے۔تو حضور نے اس بات کا کیا جواب ارشاد فرمایا۔مولانا دوست محمد شاہد صاحب:۔حضور نے یہ سوال سن کر مسکراتے ہوئے یہ بات کہی کہ میری سمجھ سے بالا سوال ہے۔اور فرمایا کہ میں اس لئے سمجھ نہیں سکا کہ ایک شخص اگر سنی ہو تو اسے شیعہ کیسے قرار دیا جا سکتا ہے۔ایک کہے کہ میں مسلمان ہوں اور اسمبلی کہے کہ ہم تمہیں سکھ اور عیسائی کے شیڈیول میں شامل کرتے ہیں تو یہ مینٹل کیس ہے۔سکھ کبھی ہو نہیں سکتا۔حافظ محمد نصر اللہ صاحب :۔اٹارنی جنرل صاحب خود شیعہ تھے؟ مولا نا دوست محمد شاہد صاحب:۔اٹارنی جنرل نے تو یہ پوچھا تھا کہ رد عمل کیا ہوگا ؟ تو اس پر شروع میں ہی چیئر مین صاحب جوش میں آگئے اور کہنے لگے کہ "You are eye witness۔You must reply this fundamental question۔" اس بنیادی اور مرکزی سوال کا جواب بحیثیت شاہد کے، گواہ کے، آپ کو دینا پڑے گا۔اس پر حضور نے فرمایا کہ بات یہ ہے کہ پاکستان تو چند ڈویژنوں کا نام ہے۔پاکستان نہیں ،سعودی عرب نہیں، سارا عالم اسلام بلکہ U۔N۔O بھی ہمیں غیر مسلم قرار دے تو میں اس فیصلہ کو غلط قرار دے کر اپنا فیصلہ خدا پر چھوڑ دوں گا۔دوسری بات یہ ہے کہ ہمارے آقا خاتم النبین محمد عربی ﷺ نے آخری زمانے کے متعلق فرمایا تھا سَتَفْتَرِقُ أُمَّتِي عَلَى ثَلاثٍ وَّ سَبْعِينَ مِلَّةً وَ كُلُّهُمْ فِي النَّارِ