اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 126 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 126

126 اپنے نور کے لئے کامل طور پر سورج کا محتاج ہوتا ہے اور سورج کے نور کے بغیر چاند کا اپنا کوئی معنوی وجود باقی نہیں رہتا اسی طرح روحانی دنیا میں حضرت رسول اکرم ﷺ کا وجود سراج منیر ہے اور آپ کے نور کے کامل انعکاس سے فیض یاب ہو کر چودہویں صدی کو منور کرنے والا وجود ہر گز کسی علیحدہ فضیلت کا دعویدار نہیں ہوسکتا بلکہ اس کے نور کی ہر شعاع حضرت محمد مصطفیٰ خاتم الاصفیاء ﷺ کے سرچشمہ نور کی مرہون منت ہوگی اور اس کے فیض کے بغیر کامل تاریکی ہوگی۔بعینہ یہی صورت حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے دعوی کی ہے۔چنانچہ آپ نے آنحضور خاتم الانبیاء ﷺ سے اپنی نسبت بیان کرتے ہوئے فرمایا:۔سب ہم نے اس سے پایا شاہد ہے تو خدایا وہ جس نے حق دکھایا وہ مہ لقا یہی ہے اس نور پر فدا ہوں اس کا ہی میں ہوا ہوں وہ ہے میں چیز کیا ہوں؟ بس فیصلہ یہی ہے“ یہ خلاصہ کلام حضرت سیدنا طاہر کے الفاظ میں لکھا گیا ہے۔باقی حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب نے تحریر فرمایا تھا۔علماء کی طرف سے پیش کردہ محضر نامے حافظ محمد نصر اللہ صاحب :۔جماعت احمدیہ کی طرف سے تو ابھی ذکر ہوا کہ محضر نامہ پیش کیا گیا۔حضرت خلیفہ امسیح الثالث رحمہ اللہ نے دو دن میں اپنی زبان مبارک سے سنایا تو کیا علماء کی طرف سے بھی کوئی محضر نامہ پیش کیا گیا اسمبلی میں؟ مولا نا دوست محمد شاہد صاحب :۔بات یہ ہے کہ دو محضر نا مے اس وقت پیش کئے گئے۔ایک تو مولوی غلام غوث صاحب ہزاروی نے لکھا۔اس کا نام ہی محضر نامہ تھا اور دوسرا مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے یوسف بنوری صاحب کی (جو ساری ایجی ٹیشن کی رہبری کر رہے تھے ) نگرانی میں لکھا گیا