اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 107
107 دیہات کی دلی کی مغلیہ حکومت نے دی تھی ، غدر کے وقت وہ ساری جا گیر ضبط کر لی جاتی ہے۔عجیب بات ہے مسیح موعود کے خاندان کی جاگیریں ضبط کی جاتی ہیں اور مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی جنہوں نے مسیح موعود علیہ السلام پر کفر کا فتویٰ لگایا ہے، انہیں ان جا گیروں سے نوازا جاتا ہے اور شمس العلماء کا خطاب دیا جاتا ہے اور پھر کہتے ہیں جی خود کاشتہ پودا مرزا صاحب ہیں۔اسی طرح سرسید کا فتوی اسباب بغاوت ہند میں ہے۔(ملاحظہ ہو صفحہ 104 ناشرار دواکیڈمی سندھ مشن روڈ۔کراچی ) آخر میں سب سے اہم ہے۔1857ء میں فتویٰ مکہ کے مفتیوں نے دیا اور کہا کہ ہندوستان دار السلام ہے اور اس میں جو قائم شدہ انگریز کی حکومت ہے اس کی اطاعت قرآن کی رُو سے فرض ہے اور اس کے اوپر مہر لگانے والے حنفی مفتی جمال الدین بن عبداللہ ، مالکی مفتی مکہ معظمہ حسین بن ابراہیم اور مفتی مکہ معظمہ شافعی احمد بن الذہبی کے دستخط موجود ہیں۔شورش کاشمیری صاحب نے بھی اپنی کتاب میں اس کو نقل کیا ہے۔(کتاب ”سید عطاء اللہ شاہ بخاری صفحہ 31) پہلے سرسید نے اس کو اسباب بغاوت ہند“ میں لکھا ہے۔اس میں بنگال کے مسلمانوں کے متعلق بھی لکھا ہے۔لیکن پیش یہ کیا جاتا ہے کہ گویا سارا عالم اسلام اس وقت جہاد کر رہا تھا اور انگریز نے مرزا صاحب کو کھڑا کیا کہ جہاد کو ختم کر دیں۔جہاد کہاں ہورہا تھا ؟ بتائیے !! جماعت احمدیہ کے قیام سے پہلے خلیفتہ المسلمین ، ملکہ کے مفتی، ہندوستان کے چوٹی کے علماء سارے اس بات پر متفق تھے کہ انگریز کی قائم شدہ حکومت کے خلاف جہاد کرنا قرآن وحدیث کے لحاظ سے بغاوت ہے اور فساد ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تو اتنا کیا ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا تھا يَضَعُ الْحَرْبَ کہ مسیح موعود لڑائی کو بند کر دیں گے۔یہ رسول اللہ کا فرمان تھا جس کے مطابق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ میں خلیفتہ المسلمین ، اور مکہ مفتی اور ہندوستان کے تمام علماء کے اس فتویٰ کی تصدیق کرتا ہوں۔بات اتنی ہے ساری۔پیش کرنا تھا۔- ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب:۔آپ نے مولانا! ابھی حضرت بانی سلسلہ کا پُر در دانتباہ بھی مولانا دوست محمد شاہد صاحب:۔یہ آخری الفاظ تھے۔حضور نے پر شوکت جو بیان دیا ہے۔یہ محضر نامہ اس پر ختم ہوتا ہے۔بہت ہی درد بھرا پیغام ہے۔انسان آنسوؤں سے لبریز ہو جاتا ہے۔فرماتے ہیں:۔