اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 106
106 مفسدہ 1857ء میں جو مسلمان شریک ہوئے تھے، وہ سخت گنہگار اور بحکم قرآن وحدیث وہ مفسد اور باغی اور بد کردار تھے۔“ (رسالہ اشاعۃ السنۃ جلد 9 نمبر 10 ) اب تو ملاں نے بنا دیا ہے کانگریس کی وجہ سے، کہ یہ تحریک آزادی تھی حالانکہ تحریک بربادی تھی مسلمانوں کے لئے۔تو مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی جوان کی نگاہ میں سب سے پہلے محافظ ختم نبوت ہیں، وہ کہتے ہیں کہ 1857ء میں فساد کرنے والے قرآن اور حدیث کی رو سے مفسد تھے۔دہشتگر د تھے اور باغی تھے اور بد کردار تھے۔اس گورنمنٹ سے لڑنا یا ان سے لڑنے والوں کی ( خواہ ان کے بھائی مسلمان کیوں نہ ہوں) کسی نوع سے مدد کرنا صریح غدر اور حرام ہے۔“ (رسالہ ” اشاعۃ السنية جلد 9 نمبر 10 صفحہ 38-48) اس موقع پر میں بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے اس موضوع پر مسلسل مضامین اشاعۃ السنہ میں شائع کئے۔الاقتصاد فی مسئلۃہ الجھاؤ“ شائع کیا اور اس میں واضح کیا کہ اس وقت ہمارا اتحاد ہے انگریز حکومت کے ساتھ۔اس وقت جہاد کرنے والے دراصل فساد کرتے ہیں۔وہ Terrorist ہیں۔وہ باغی ہیں اور مفسد ہیں۔اس پر گورنمنٹ انگریزی نے ان کو چار مربع زمین دی۔خود انہوں نے اعتراف کیا ہے اور اس کے علاوہ شمس العلماء کا خطاب دیا۔چنانچہ 1911ء میں شاہ ایڈورڈ کی تاجپوشی کی اگر آپ روداد دیکھیں۔اس میں لکھا ہوا موجود ہے کہ تاجپوشی کے موقع پر جن علماء کو بلایا گیا اور شرف مصافحہ بخشا گیا اور کچھ ایڈریس بھی کیا گیا۔ان میں مولوی محمد حسین صاحب بھی تھے۔انہوں نے ایک قصیدہ گورنمنٹ انگریزی اور بادشاہ کے حق میں پڑھا۔اور اس کے علاوہ وہ اس مجلس میں کرسی نشینوں میں شامل رہے۔یہ 1911ء کی بات تھی۔جماعت کا قیام 1889ء میں ہوا ہے۔بائیس سال بعد کی بات تھی۔کوئی احمدی تھا جو اس وقت کرسی نشینوں میں شامل ہو؟ کسی کو انگریز نے شمس العلماء کا خطاب دیا ہو؟ شبلی صاحب کا نام شمس العلماء شبلی۔دارالعلوم دیو بند کے ناظم محمد احمد صاحب شمس العلماء کا خطاب لے کر 1911ء کی تاجپوشی کے اجلاس میں موجود تھے۔مربعے ملتے ہیں مولوی محمد حسین بٹالوی کو اور مسیح موعود علیہ السلام کے آباء کی جو جا گیراشی