اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 97
97 حاصل ہوتی ہے۔بلکہ صوفیاء کے تو کشف ہیں۔لکھا ہے کہ ایک شخص سے قبر میں سوال کیا گیا کہ تمہیں کسی نے کافر بھی کہا ہے یا نہیں۔کہنے لگا کہ مجھے تو کئی کا فر کافر کہتے تھے۔تو کہا گیا چلو پھر تمہاری نجات ہوگئی۔یہی کافی ہے کہ تمہیں کا فر کہا گیا ہے۔۔کا موقف؟ ہے بہت سہل مسلمان کو کافر کہنا کاش کوئی کافر بھی مسلمان بنایا ہوتا جو انجیل سنانے یہاں آتے ہیں وہ ان کو قرآن وہاں جا کے سنایا ہوتا ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب:۔یہ تو تھا نا مسلمان کی تعریف کے بارے میں جماعت مولانا دوست محمد شاہد صاحب:۔اس میں یہ ہے کہ فتاویٰ کفر کی حیثیت اتنی ہے کہ ایک دستوری اسلام ہے۔ایک حقیقی اسلام ہے۔تو کفر کے فتووں کا تعلق جو ہے وہ حقیقی اسلام کے متعلق سمجھنا چاہئے۔دستور اسلام کے لحاظ سے تو جو شخص اپنے تئیں مسلمان کہتا ہے، وہ مسلمان ہے۔ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب:۔اس میں جو تحریرات دی گئی ہیں ان میں سے مقام خاتم النبیین کے بارہ میں نمونہ کے طور پر کوئی تحریر پیش فرمائیے۔مولانا دوست محمد شاہد صاحب:۔خاتم النبیین کے مقام کے متعلق یہ تحریریں تو ایسی ہیں کہ میں سمجھتا ہوں کہ چودہ سوسال کے عشق رسول کے لٹریچر کو اگر آپ اکٹھا کریں۔ایک پلڑے میں وہ سارا لٹریچر ہو اور دوسرے پلڑے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک تحریر ہوتو یہ پلڑا بھاری رہے گا۔نمونہ کے طور پر میں عرض کرنا چاہتا ہوں۔اللہ تعالیٰ کی شان کے متعلق۔پھر قرآن مجید کی شان۔پھر آنحضرت ﷺ کی شان کے متعلق روح پر دور تحریرات ہیں۔انسان کی روح وجد کر اٹھتی ہے۔آپ اگر عربی قصیدہ ہی پڑھیں، حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ جب میں لکھ چکا تو خدا نے مجھے بشارت دی کہ جو شخص اس کو حفظ کرے گا تو خدا تعالیٰ اس کی بصیرت میں اور اس کے ایمان میں اضافہ کرے گا اور زیارت محمد بھی نصیب ہوگی اور عملاً ایسا ہوا۔یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وجد آفرین اقتباسات کا نمونہ ہے۔