اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 63
63 65 کے لئے انہوں نے سوچا۔اللہ تعالیٰ کا ایسا نشان تھا انہیں پتا ہی نہیں تھا کہ خدا کا شیر انگریزی زبان کا بھی ماہر ہے۔حضور نے جس وقت کہ انگریزی زبان میں بات شروع کی تو چھکے چھوٹ گئے اس کے، چند سوالوں کے بعد پھر آدھا اردو اور آدھا انگریزی اور تیسرے دن پھر صرف اردو میں سوال انہوں نے شروع کئے، تو یحییٰ بختیار صاحب کہنے لگے کہ اب میں عربی زبان تو نہیں جانتا تو علماء میں سے کسی کو مقرر کیا جائے۔میں چیئر مین سے یہ کہتا ہوں کہ مہربانی کر کے میری بجائے ( کیونکہ یہ فیصلے پہلے ہو چکے تھے ) آپ اجازت دیں (بھٹو صاحب کی اس اناؤنسمنٹ کے بعد تو کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔اس کے لئے تو پھر دوبارہ انا ونسمنٹ کرنی چاہئے تھی مگر یہ چونکہ سب سازش تھی اکٹھی ) اس وقت ہی چیئر مین صاحب نے کہا کہ ہاں یہ آپ کی بات معقول ہے۔اس کے بعد چیئر مین نے حضور کو مخاطب کیا اور کہا کہ آپ کے سامنے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ اب آخری دن کے جو سوالات ہیں وہ خصوصی کمیٹی کے کوئی دوسرے ممبر جو علماء میں سے ہوں گے ، کریں گے۔اس واسطے کل اٹارنی جنرل صاحب سوال نہیں کریں گے۔باقی اگر سوال رہ گئے ہیں تو اس وقت ان کا جواب دیں۔لیکن کل بہر حال کسی عالم دین کو سوال کرنا ہو گا۔اس پر حضور نے فرمایا کہ کیا مجھے بھی اجازت ہے کہ میں ڈیلی گیشن میں سے کسی کو جواب کے لئے مقرر کر دوں۔چیئر مین صاحب نے اتفاق کر لیا۔خیر حضور نے یہ بات سنی اور پھر سوالوں کے جوابات دیئے۔اگلے دن یعنی کارروائی کے آخری دن جب حضور تشریف لے گئے تو حضور نے کمیٹی روم میں حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب سے فرمایا کہ اب جواب دینے کے لئے آپ تیار رہیں اور مجھے فرمایا جہاں مولا نا تشریف رکھتے ہیں تم نے وہاں بیٹھنا ہے۔ٹرنک وغیرہ بھی وہیں رکھ لو اور مولانا اب میرے ساتھ بیٹھیں گے۔کیونکہ سوالوں کے جواب انہوں نے دینے ہیں۔اس کے بعد حضور کی قیادت میں قافلہ جب آخری دن کے پہلے اجلاس میں پہنچا تو حضرت خلیفہ اسیح الثالث کو مخاطب کرتے ہوئے حضور کی خدمت میں چیئر مین نے کہا کہ اب کارروائی شروع ہوتی ہے۔تو میں اب رہبر کمیٹی کے فیصلہ کے مطابق مولا نا ظفر انصاری صاحب سے کہوں گا کہ Eye Witness ( گواہ) کے اوپر جو سوالات آپ کرنا چاہتے ہیں بڑے شوق سے کریں۔جب یہ بات چیئر مین صاحب نے کہی تو حضور نے فرمایا کہ گورنمنٹ کی طے شدہ پالیسی