اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 57
57 یہ ساری کارروائی ہوئی۔اب بات یہ ہے کہ لطیفہ ہمیں پہلے دن یاد آیا۔میرے دل میں خیال آیا یہ پرائیویٹ ان کیمرہ کارروائی کی جارہی ہے کہ کسی کو خبر نہ ہو جائے۔مجھے اس وقت یہ بات ذہن میں آئی۔کسی شخص کا ایک جگری دوست تھا۔وہ شخص کسی بڑے اہم کام میں مصروف تھا۔وہ دوست کہنے لگا کہ ایک بڑا پرائیویٹ سامعاملہ ہے۔باہر لے گیا۔گرمی کا موسم تھا۔پسینہ کی وجہ سے دونوں ہی شرابور ہورہے تھے۔اس نے کہا کہ بتائیے۔دوست نے کہا کہ ابھی کچھ گلیاں باقی ہیں۔باہر جا کر میں تمہیں بتاؤں گا۔بہت سیرلیس (Serious) معاملہ ہے۔وہ بڑا حیران تھا کہ عمر بھر کبھی ایسا قصہ نہیں ہوا۔جب بہت دور نکل گئے تو کہنے لگا اب تو سوائے ریت کے ذروں کے کوئی یہاں موجود نہیں اب تو خدا کے لئے بتا دیں۔اس وقت اس نے کان کے نزدیک منہ کیا اور کہنے لگا کہ گرمی بہت پڑی ہے، پرائیویٹ معاملہ ہے Leak Out نہ ہو جائے۔بڑا ہنگامہ ہو جائے گا۔تو ختم نبوت کا تحفظ کر رہے ہیں، جناب احمدیوں کے گھروں کو آگیں لگائی جارہی ہیں، تحفظ ختم نبوت کے لئے۔یہ تو کھلم کھلا کیا جارہا ہے مگر جو بحث ہورہی ہے جس میں کہ ختم نبوت کا تحفظ ہے، اس کے اوپر پہرے لگے ہوئے ہیں، خیر ہمیں بھی اسمبلی میں داخلہ کے لئے ٹکٹ دئے جاتے تھے، یعنی اتنی احتیاط تھی۔ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب:۔داخلہ کا طریقہ کار کیا تھا؟ مولانا دوست محمد شاہد صاحب:۔طریقہ کار آپ نے پوچھا ہے۔مجھے بیک گراؤنڈ اس لئے بتانا پڑتا ہے کہ اس کے بغیر وہ حقیقی تصویر آ ہی نہیں سکتی۔ایک تو مواقع کا فرق ہے خاص طور پر جو عینی شاہد ہو۔تو میں حیران تھا کہ یہ تو ایک واضح بات تھی کہ ایک ٹکٹ بنالیا جاتا اور اس میں نام لکھے جاتے۔ایک دفعہ دیکھنے کے بعد بہر حال چیکنگ کرنے میں آسانی تھی۔مگر اس میں بھی بہت ہی محتاط رویہ اختیار فرمایا بھٹو صاحب کی حکومت نے کہ ہر ایک کو الگ الگ ٹکٹ دیئے۔چنانچہ میرے پاس وہ ٹکٹ اب تک تبر کا محفوظ ہے اور ان کے اوپر مثلاً پہلا ٹکٹ ہے اس میں نمبر ہے اور اوپر لکھا ہوا ہے مولا نا دوست محمد صاحب شاہد۔اس کے پشت پر انگریزی میں لکھا ہے کہ یہ کسی اور کو نہیں دیا جا سکے گا۔تو بہت احتیاط فرمائی تھی تحفظ ختم نبوت کے معاملہ میں ، ہمارے داخلہ کے معاملہ میں بھی بہت خطرات تھے۔