اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 48
48 زبان سے کہہ نہیں سکتا کسی کا باپ ہوں میں اپنی نسل کے فقرے کا فل سٹاپ ہوں میں) تو مولانا کہتے ہیں کہ یہ غلط ہے، یہ عوام کے معنی ہیں۔علماء کے معنی آگے چل کر لکھتے ہیں کہ اس کے معنی یہ ہیں کہ مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَكِنْ رَّسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ (الاحزاب : 41) فرمایا کہ حمد عربی صلم تم مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں۔(اگر خدا اتنا ہی فرماتا۔یہ تشریح بریکٹ میں میں کر رہا ہوں الفاظ آگے آرہے ہیں حضرت مولانا قاسم کے۔) اگر اتنی بات ہی جناب الہی کی طرف سے قرآن میں مذکور ہوتی تو پھر یہ تو دراصل ایک جیت تھی کفار کی کیونکہ قرآن کہتا ہے کہ اِنَّا اَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَ انْحَرُ إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الابتر 0 (سورة الکوثر) یا رسول اللہ ! آپ ابتر نہیں ہیں۔ابو جہل ابتر ہے۔ابولہب ابتر ہے۔عتبہ شیبہ یہ بدسگال جو کہ اسلام کے بدترین معاند ہیں۔عرش پر ان کو ابتر قرار دیا گیا ہے۔تو اتنے لفظ کے ساتھ تو دراصل یہ ٹکراؤ ہو جاتا تھا۔اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب دینے کے لئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ابتر نہیں ہیں ، دو جواب دیتے ہیں۔وَلَكِن رَّسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ مولانا قاسم کہتے ہیں لكِن استدراک کے لئے آیا ہے۔ایک بہت بڑا اعتراض پیدا ہوسکتا تھا جس کے جواب کے لئے خدا نے دو لفظ استعمال کئے ہیں اور واؤ عاطفہ ہے۔اس کے معنے یہ ہیں کہ جس غرض کے لئے رسول اللہ کا لفظ آیا ہے ، وہی غرض آنحضرت ﷺ کو خاتم النبین بنانے کی غرض کے لحاظ سے بنایا گیا ہے اور وہ کیا چیز تھی ؟ بتانا یہ مقصود تھا کہ حضور بہتر نہیں ہیں۔آپ باپ ہیں۔اس کے جواب کے لئے حضرت مولانا قاسم نے وہاں پر لکھا ہے کہ اللہ نے سب سے پہلے رسول اللہ کا لفظ استعمال کیا ہے اور یہ حقائق ببانگ دہل دنیا کے سامنے رکھے کہ یہ ٹھیک ہے کہ ظاہری اور مادی طور پر آنحضور ﷺ تم میں سے کسی مرد کے باپ نہیں ہیں۔کیونکہ حضرت ابراہیم تو اس وقت چھوٹے تھے۔بعد میں دوسال کے بعد وفات پاگئے تو فرمایا کہ مردوں میں سے یعنی جو بالغ مرد ہیں کوئی بھی آپ کا بیٹا نہیں ہے مگر آپ ابتر ہر گز نہیں۔آپ باپ ہیں کس شان کے باپ ہیں اسی شان کے جس طرح کہ خدا کے رسول اپنی