اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 44
44 سے وہ اٹھ بیٹھی۔اس نے پھر ساری کہانی بیان کی۔اس کے بعد اس بیچارے نے اللہ اس کو جزائے خیر دے۔پتا نہیں اب دنیا میں ہیں یا نہیں اللہ تعالی ہزاروں ہزار رحمتیں بھیجے۔اس وقت دراصل ہر مسلمان ہی مظلوم تھا۔اس بزرگ نے پھر ان کو لاہور بھجوا دیا۔یہ تفصیل مولا نا رئیس احمد صاحب جعفری مؤرخ پاکستان کی کتاب میں موجود ہے۔قائد اعظم اور ان کا عہد از مولانا رئیس احمد جعفری صفحہ 613-614 ناشر مقبول اکیڈمی شاہراہ قائداعظم۔لاہور ) پاکستان بنانے میں ہماری احمدی مستورات کا خون شامل ہے۔اس وجہ سے پاکستان پر جو معمولی سی بات بھی آتی ہے تو احمدیوں کا دل زخمی ہو جاتا ہے۔قیامت اس پر ٹوٹتی ہے اس لئے کہ بنانے والوں میں جماعت احمد یہ ہے۔احرار تو قائد اعظم کو کافر اعظم کہنے والے تھے۔پاکستان کا نام پلیدستان رکھنے والے تھے۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے ان دنوں جو مختلف مواقع پر خطاب فرمائے ، نہایت درد کے ساتھ فرمایا کہ پاکستان اور جماعت کی مثال یہ ہے کہ دو عورتیں حضرت سلیمان علیہ السلام کے دربار میں پیش ہوئیں۔دونوں کا یہ دعوی تھا کہ بیٹا ہمارا ہے۔حضرت سلیمان علیہ السلام ( یہ حدیث میں بھی موجود ہے اور بائیبل میں بھی یہ تذکرہ ملتا ہے اور اسی طرح اولیاء امت نے بھی اپنے لٹریچر میں بھی اس کو بار بار پیش کیا ہے۔) فرماتے ہیں کہ حضرت سلیمان نے کہا کہ مجھے تو کچھ پتا نہیں ہے کہ کون اس کی ماں ہے۔میں تو یہ کر سکتا ہوں غیر جانبدار حج کی حیثیت سے کہ خنجر لے کر اس کو دو حصوں میں تقسیم کر دوں۔ایک حصہ تمہیں دے دیتا ہوں۔ایک اس کو دے دیتا ہوں۔تو جو اصل ماں تھی وہ روتے ہوئے ان کے قدموں میں گر گئی کہ خدا کے لئے اس بچے کو ذبح نہ کریں ، میں جھوٹ بول رہی تھی یہ بیٹا اس کو ہی دے دیں۔اس پر حضرت سلیمان کو یقین ہوا کہ اصل ماں یہی ہے اور دوسری ماں کہنے لگی سبحان اللہ کیا مساوات محمدی قائم کی گئی ہے!“ تو آپ نے فرمایا ہمارا بھی دل اور جگر زخمی ہے۔کوئی ہمارے ان زخموں کو دیکھے تو اسے اندازہ نہیں ہوسکتا ، تو میں بھی زار و قطار رو پڑا۔تو اصل پاکستان وہ تھا اور احرار نے عوامی لیگ سے مل کر یہ ساری شرارت کرائی ہی اس لئے تھی۔احراری لیڈر عوامی لیگ میں اس لئے شامل ہو گئے تھے کہ 1953ء میں چونکہ اسمبلی میں اکثریت مشرقی پاکستان کے ممبروں کی تھی۔انہوں نے اس کو بالکل