اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 566
566 MAM۔اصل دارشا و سمیه شهریه ملقبه مشتمل شعب علیه متنوعه تقریبا ساله و دائره مینی امداد الفتاوي في الفقه والعقائده جواد مث العتاد في في ما يتعلق بالسوان المجد بية تربية السالك في الاحوال السلوك والرفین کی سوار الطريق في الاحوال العامت سند المحفوظات خبرت إلى العوالم المختلفة اب است بادل آن از ان انسات حضرت الحرب الجم مولانا امان باشه همیاریدا وا له ماست که لقب صحیفه مشیرت به ترک بنام نامیرا علشارد بابت با صفر ازه دیگران است بادارة المحترفيق ا الطبع امداد الطابع مت بھون جلوه نمودن گرفت داعی ہوتا ہے بعض اوقات حدودہ شرعیہ کا تیال بھی نہیں رہتا ایسا شخص شاید حضرت صدیق کی اور سو گیا کچھ عرصہ کے ہوں جواب دیکھتا ہوں کرتا الا الله الله عمر رسول الله پرته بورن لیکن محمد ہوں انٹر کی جگہ جنوں کانامریتا ہوں اتنے میں پال کے اندر خیال پیدا ہو کر مجھے فلمی اندی کے اس حال کے ہے جیسی تنگ وہ اسلام لائے تھے کہ ہمیں وقت بھی وہ حضرت رسول الشعر صلی الہ علیہ وسلم کی حضرت فرماتے تھے مگر محض محبت طبیعت ہے نہ کہ نیست شریف سے میں خواب میں اسکو بیج پڑھنا چاہئے اس خیال سے دوبارہ کر شریف پڑھتا ہوں المیا میرے تو یہ ہے کہ بیج پر بجھاتے لیکن زبان سے بیساختہ بجائے سول اللہ صلی الہ عیب ہالہ کے نام کے ایسے خادموں کی حقیقت بیاد لی گئی اس خواب میں جیز دستم بالشان ہیں تھا یاتی ظاہر ہے اسلام اشرف علی نکل جاتا ہے جانا کہ امی کو اسی بات کا علم ہے کیا سی این دوست نہیں لیکن بے اختیار زبان ۲۰ ر شوال شاه سوال اب وجہ اس کی عرض کرتا ہوں کہ بیعت ہونے کا خیال مجھکو کیوں ہوا اور حضور کی سے ہی کر لکھتا ہے روتین با جیب بھی صورت ہوئی تو حضور کو اپنے سامنے دیکھتا ہوں اور ہیں طرت کیوں جان کیا بیعت کا شوق صرت مطالعہ کتب تصوف سے اور تصور کی جانب رجوع ہے چند منفی معنوی کے پاس تھے لیکن اتنے میں میری یہ حالت ہو گئی کہ میں کھڑا کھڑا ہو جب اس کے کہ یت طاری ہوگئی زمیں پر گرگیا اور نہایت مرد کے ساتھ ایک پیج باری و جارو معلوم ہوتا تھا کہ که سی ام صاحبان مولانا مولوی محمد صاحب مرحوم مولانا مولوی حمید اختر صاحب مراوم و میرے اندر کوئی طاقت باقی نہیں رہی اتنے میں بندہ خواب سے بیدار ہو گیا لیکن بدن میں تقوم الوں سے حضور کے اعتقادات ملتے بہنے تھے اس سے یہ مرض تھی کہ اسے اتنا یا ور کوئی اپنے دادا وغیرہ عالم کے اعتقادات کو خراب ہی ہوں بے بسی تھی اور وہ اثر نا طاقتی بدستور تھا لیکن حالت خواب اور بیداری میں حضور کا نہیں میاں ان کو بلا یہ تو بیچ دی جائے اصل غرض یہ ہے کہ حضور کے اور بندہ کے اعتقادات بالکل ایک تھا لیکن حالت بیداری میں کار شریعت کی تسلی جیب کہاں آیا تو اس بات کا مادہ ہوا کہ بھرتیاں میں خدا گر مولوی صاحبان کو دیا نوی اور حضور کے درمیان کسی فروعات میں اختلاف نہیں ہوتا کو دل سے دور کیا جائے میں ایسے کہ جو کوئی ایسی تسلی نہ ہو جائے، بایں خیال پہ پہنچے گی اور یہی تو ہمیں بھی جناب کی طرف مجموع کرتا ہوں (۳) اور حضور کی تصنیف چند کتا ہیں زیر مطالعہ دو مربی کی شایت کو کار شریف کی معلمی کے تدارک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم پر درود و شرایت پڑھتا ہوں لیکن پھر بھی کہتا ہوں اللهم صل على سيدنا ونبينا و مي انا اثرون على حالها رہی ہیں جن میں سے بہشتی زیور تو میز جان ہے اور شرح مثنوی مولانا رومی رحمہ اللہ لہے کے علا بھی چند تصانیف منظر سے گذر میں (م) ایک دفعہ رامپور ریاست میں جانے کا اتفاق میا تو وہاں اب بیدار ہوں جواب نہیں لیکن بے اختیا ہوں مجبور ہوں زبان اپنے قابو میں نہیں آئیں اور ایک مسجد میں ایک مولوی صاحب کے طالب علم تھے ان کے پاس شہرنے کا تفاق ہو گیا اور یہ بھی ایسا ہی کو خیال را تو دو حشر از میداری می رفت رہی خوب ، دنیا اور بھی بہت سے اجابات معلوم ہوا کہ وہ مولوی صاحب حضور سے بعیت نہیں، اس لئے اُن سے اور بھی محبت ہوگئی ٹوانا۔میں پھلوں کے ساتھ باحث محبت میں کیا تشک عرض کروں۔گفتگو میں معلوم ہوا کہ ان کے پاس تھا۔بھوروں سے دو سالہ الامداد اور سن العزیز بھی ماہوارہ میں جو اب اس واقعہ میں تیلی تھی کہ ہی کی طرف تم بھی کرتے ہو وہ بو نہ تعالی نتیج دیتے آتے ہیں بندہ نے اُن کے دیکھنے کے واسطے درخواست کی تو ان مولوی صاحب طالب علم نے چند سالہ جھکا دیکھنے کے واسطے دیئے احمد بشر و لطف اُن سے اُٹھایا بیان سے باہر ہے سوال جناب اند ستاد مولانا نیم مالی اسلام و راه و بیراه مارست نام دارد ایک راہ کا ذکر احسن العزیز دیکھیں تھا اور در پی کا وقت تھی کہ نیند سے قلب کیا اور سو جائے گا موکر باعث اعزاز ہوا مینا پیر عطرت را مجد قبلہ عالم الله العالی کیا برا واسه مولوی ارادہ کیا مسار حسن العزیز کا ایک طرف نکند یا لیکن جب بندہ نے دوسری طرف کروٹ بدلی تو صاحب مرقوم کا لڑکا ہے امیں مشیر نہیں کہ جناب لیے ضروریات زبان کے لحاظ سے دینی خدمت دل میں خیال آیا کہ کتاب کو پشت ہو گئی اسلئے پیار حسن المرز کو اٹھا کر اپنے سرکی جائے کھایا بہت آئی ہے اور بہت سے رسائل سفیدہ دینیات میں کور اکر لوگوں کو مستفیض فرمایا اگر آپ سے