اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 36 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 36

36 یہ اشتعال انگیزی کی ایک فضا تھی جس کے قائم ہونے کے بعد اور جب یہ بڑھ گئی اور وہ پلان جو کہ ربوہ پر بنایا گیا تھا اور جو استعماری طاقتوں کی سرپرستی میں شاہ فیصل اور بھٹو صاحب اور علماء هم“ کی سازباز کے نتیجے میں تھا۔جب اس کا اصل ماسٹر پلان قریب آ گیا تو اس پر پھر شورش کاشمیری صاحب نے اپنے نام کی طرح شورش کی انتہا کر دی کہ ”اب ربوہ کے تباہ ہونے کا وقت قریب آ گیا ہے۔“ یہ ان کی بہت بڑی لمبی نظم ہے جس کا مفہوم یہ تھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ربوہ کو تباہ کر دیا جائے۔(''چٹان' 8 اپریل 1974 ء ) اس کے بعد اس نوٹ میں یہ بتایا گیا کہ پاکستانی پریس نے یہ اعتراف کیا کہ یہ حادثہ ایک طویل سازش کا نتیجہ ہے۔اخبار جہاں کراچی۔12 جون 1974 ء اداریہ، اخبار آثار 3 تا 10 جون 1974ء) یہ غالبا لا ہور سے چھپتا تھا۔اس کے اداریے میں یہ انکشاف موجود ہے۔جور پورٹیں شائع کی گئیں اخبار کی طرف سے ، وہی اخبار جس کی مدح سرائی میں میں نے حوالہ پیش کیا تھا امیر شریعت احرار“ کا عنوان تھا:۔پانچ ہزار مسلح افراد کا حملہ یعنی چند طالب علم وہ تھے اور چند وہ تھے۔اس حادثہ کے وقت میں اپنے دفتر میں بیٹھا ہوا تھا۔ساری جماعت کے افراد اپنا اپنا کام کر رہے تھے اور چند افراد وہاں ہوں گے۔پہلے تو یہ بنایا گیا کہ یہ مرزا ناصر احمد صاحب کی شرارت تھی۔جب حضور کی وفات ہوئی تو پھر کہتا ہیں جو چھپیں اس میں حضرت خلیفہ مسیح الرابع کا نام دیا گیا کہ ساری پلاننگ ان کی تھی۔کیونکہ اس وقت حضرت خلیفتہ ایسے الثالث خلیفہ تھے تو اس وقت ٹارگٹ حضور کی شخصیت کو بنایا گیا۔جب سید نا حضرت خلیفتر مسیح الرابع تخت خلافت پر خدا کی طرف سے جلوہ گر ہوئے تو پھر ان ظالموں نے سید نا حضرت خلیفتہ اسیح الرابع کا نام لکھا۔ایک عنوان تھا: پانچ ہزار مسلح افراد کا حملہ نوائے وقت 30 مئی 1974 ، صفحہ 1 کالم 2-3)