اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 479
479 انہوں نے اپنی یادداشتوں میں یہ بات لکھی ہے کہ نہر وحکومت با قاعدہ اس مفاہمت کے لئے تیار ہوگئی کہ حیدر آباد میں دے دیں۔کشمیر ہم آپ کو دیتے ہیں مگر لیاقت کی نالائقی کی وجہ سے کہ وہ یہ خیال کرتے رہے کہ حیدر آباد دکن ہماری اسٹیٹ ہوگی اور ہم ہندوستان کے اوپر اس کی وجہ سے بالا دستی قائم کرلیں گے۔وہ تو جا نہیں سکتی اور کشمیر تو ہمارا ہی ہمارا ہے کیونکہ ہمارے بارڈر کے ساتھ ہے۔نتیجہ کیا نکلا ؟ ہندوستان نے جارحانہ طور پر قبضہ کر لیا حیدر آباد دکن پر اور ابوالکلام آزاد، لارڈ ماؤنٹ بیٹن اور نہرو اور گاندھی ، ان ساروں کے پریشر (Pressure) میں سری نگر پہنچے اور ان کے پریشر (Pressure) کی وجہ سے وہاں کے مہاراجہ نے الحاق ہندوستان کا اعلان کیا۔اور نتیجہ یہ ہوا کہ آج تک اصل جو کشمیر کا حصہ تھاوہ ہندوستان کے قبضے میں چلا آ رہا ہے۔آزاد کشمیر اسمبلی کی قرارداد پر حضرت خلیفہ اسیح الثالث کا تبصرہ حافظ محمد نصر اللہ صاحب :۔مولانا آزادی کشمیر کی تحریک کے حوالے سے جماعت احمدیہ کی فی عظیم الشان خدمات ہیں۔لیکن 1973ء میں ہم دیکھتے ہیں کہ پاکستان کے آئین کی منظوری کے فوراً بعد 29 اپریل 1973ء کو سب سے پہلے کشمیر کی قانون ساز اسمبلی نے جماعت احمدیہ کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا۔اس حوالے سے حضرت خلیفہ اسیح الثالث" نے 4 مئی 1973ء کو ایک خطبہ ارشاد فرمایا وہ اگر آپ قارئین کو اور ناظرین کو بتائیں؟ مولانا دوست محمد شاہد صاحب:۔حضرت خلیفہ امسح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے آزاد کشمیر حکومت کی جماعت احمدیہ کے خلاف غیر مسلم اقلیت سے متعلق قرارداد کے پریس میں آنے کے بعد 4 مئی 1974 ء کو بیت اقصیٰ ربوہ میں پر شوکت خطبہ ارشاد فرمایا جو کہ آزاد کشمیر اسمبلی کی ایک قرار داد پر تبصرہ کے نام سے نظارت اشاعت لٹریچر وتصنیف صدرانجمن احمد یہ ربوہ کی طرف سے شائع شدہ ہے۔اس سلسلہ میں میں ایسے سربستہ راز آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں جو میں سمجھتا ہوں کہ عالمگیر جماعت احمدیہ کے سامنے یہ کبھی نہیں آئے۔بات یہ ہوئی کہ حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے اپنے اس خطبہ میں تہرہ کیا کہ یہ قرارداد کیا