اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 478
478 (Politics) پر مجھے بصیرت بخشی ہے۔میں آپ کو کلم کھلا بتانا چاہتا ہوں کہ کشمیر کا مسئلہ آپ کی آنکھوں سے نظر انداز کیا جا رہا ہے۔پاکستان قائم ہو گیا لیکن ریاستوں کا معاملہ ابھی تک لٹک رہا ہے اور ایسی صورت نظر آ رہی ہے کہ مسلمان ریاستیں بھی ، ہندوستان ہڑپ کرنا چاہتا ہے۔اس لئے آپ نے فرمایا کہ سب سے پہلا اقدام لیاقت علی خان صاحب کی حکومت کو یہ کرنا چاہئے کہ وہ اعلیٰ سطح پر نہر وحکومت کے ساتھ گفتگو کرے۔اور اس میں یہ اصولی فیصلہ کیا جائے کہ ہندوستان کا بقیہ حصہ تو آزاد ہو چکا۔ریاستیں ابھی تک فیصلہ نہیں کر پائیں۔بعض نے کھلم کھلا اعلان کر دیا ہے۔کسی نے پاکستان میں شامل ہونے کا، کسی نے ہندوستان میں شامل ہونے کا، لیکن بعض ریاستیں ایسی ہیں کہ جو گومگو کی حالت میں ہیں۔حیدر آباد جن میں سرفہرست ہے اور کشمیر اس کے ساتھ ہے۔فوری طور پر لیاقت حکومت کو چاہئے کہ وہ فیصلہ کرے حکومت ہند کے ساتھ کہ ان کی شمولیت کا کیا فارمولا ہونا چاہئے۔حضور نے فرمایا۔میرے خیال میں دو ہی صورتیں ہوسکتی ہیں یا تو یہ نقطہ نگاہ پیش نظر رکھا جائے کہ ریاست کا جو والی ہے، جس مذہب کے ساتھ اس کا تعلق ہے، اگر تو وہ ہندو ہے تو اس کو ہندوستان میں شامل ہونا چاہئے۔اگر وہ مسلمان ہے تو اس کو پاکستان میں شامل ہونا چاہئے ، لیکن میری نگاہ میں اصل یہ ہونا چاہئے کہ آزادی ہو چکی ہے، مہاراجے اب کوئی زرخرید غلام نہیں رکھ سکتے۔ان کی اصل Base یہ ہونی چاہئے کہ جس ریاست میں اکثریت جس مذہب کی ہے، اس کے مطابق اس کو ملکوں کے ساتھ شامل ہونا چاہئے۔اگر کسی ریاست کی اکثریت مسلمان ہے تو اس کو لازمی طور پر پاکستان میں شامل کیا جانا چاہئے ، اور اگر وہ ریاست اپنی اکثریت کے لحاظ سے ہندو کی ہے مگر حکمران مسلمان ہے جیسا کہ حیدر آباد دکن ہے تو اس کو لازمی طور پر ہندوستان میں شامل ہونا چاہئے۔کے ایچ خورشید کی شہادت آپ حیران ہوں گے کہ حضور بھی زور دے رہے تھے اور خدا نے موقع بھی پیدا کیا۔ابھی حال ہی میں یہ خبریں دوبارہ شائع ہوئی ہیں۔قائد اعظم کے ساتھی تھے کشمیر کے جن کی یادداشتیں بھی شائع ہو چکی ہیں۔انہوں نے اپنی کتاب میں لکھا ہے، یہ میں کے ایچ خورشید صاحب کا ذکر کر رہا ہوں جو قائداعظم کے سیکرٹری بھی رہے ہیں۔