اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 463
463 پروردگار ہے۔باقی ہم رسول اللہ کو رسول اللہ کیسے مان سکتے ہیں۔تو ہم نے مذاقاً اذان دی۔نستهزی به یہ الفاظ ہیں۔جب اذانیں ختم ہو چکیں تو آنحضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ یہ جتنے غیر مسلم جنہوں نے اذانیں دی ہیں ، ان کو بلا لو۔ہم دس بارہ نوجوان تھے۔ایک سے ایک بڑھ کر اسلام کا دشمن۔میں رسول اللہ کا چہرہ ہی نہیں دیکھنا چاہتا تھا۔بات کرنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔وہ کہنے لگے کہ میں بدترین دشمن تھا۔میں بھاگنا چاہتا تھا کہ یہ چہرہ نہ نظر آ جائے۔بات نہ ہو جائے۔کہنے لگے لشکر کیونکہ بہت بڑا تھا، دس گیارہ نوجوان تو بھاگ بھی نہیں سکتے۔مجبوراً محضرت عمﷺ کی خدمت اقدس میں جب پیش کئے گئے تو حضور نے فرمایا کہ تم میں سے بہترین اذان کس نے دی ہے؟ سب نے بیک زبان میری طرف اشارہ کیا کہ ابو محذورہ کی اذان بہترین اذان ہے۔انتہائی خوش الحانی 66 سے اس نے اذان دی ہے۔“ بہترین تلفظ تھا اس کا اور آواز بہت بلند تھی۔پہاڑ بھی گونج رہے ہوں گے۔حضور نے فرمایا کہ باقی چلے جائیں اور مجھے فرمایا کہ قریب آجاؤ۔اس کے بعد اظہار خوشنودی کرتے ہوئے پہلے تو حضور نے اپنا دست مبارک میرے سینے کے اوپر رکھا اور اسے برکت دی۔اور فرمایا ابو محذورہ ! تمہیں اللہ 66 نے آواز بڑی دلکش عطا فرمائی ہے۔ایک دفعہ پھر میرے سامنے اذان دو۔“ اور یہ غیر مسلم سے حضور کا ارشاد ہے! " کہنے لگے میں نے پھر اذان دی۔حضور کی خوشیوں کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا یعنی اس سے بڑی خوشی کیا ہو سکتی ہے کہ ایک غیر مسلم ہے اور یہ اعلان کرتا ہے کہ الله اكبر الله اكبر اشهد ان لا اله الا اللہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اشهد ان محمد رسول اللہ اور میں گواہی دیتا ہوں، ڈنکے کی چوٹ ، نوبت خانوں کے ذریعہ سے کہ محمد مصطفی ہے خدا کے