اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 458
458 ٹوٹیں گے مان تکبر کے، بکھریں گے بدن پارہ پارہ مظلوموں کی آہوں کا دھواں ظالم کے افق کجلا دے گا نمرود جلائے جائیں گے دیکھے گا فلک یہ نظارہ کیا حال تمہارا ہو گا جب ، شداد ملائک آئیں گے سب ٹھاٹھ دھرے رہ جائیں گے جب لاد چلے گا بنجارہ تو کس طرح دھوئیں نے اور آگ نے دنیا کو یہ نظارہ دکھلا دیا۔لفظ لفظاً خدا نے اپنے محبوب خلیفہ کی بات پوری کر دی۔کون ہے دنیا میں جو اس صداقت کا انکار کر سکے۔! میں صرف یہ کہوں گا کہ یہ پورا آرڈینینس قرآن مجید کی بانگ دہل نافرمانی ہے۔قرآن تو کہتا ہے کہ مَنْ لَّمْ يَحْكُمُ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأَوْلَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ (المائدة: 45) پھر آگے ہے فَأُولئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ (المائدة: 46) - پھر فَأُولئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ (المائدة:48) ہے۔کتاب اللہ کو چھوڑ کر جو فیصلہ کیا جاتا ہے۔وہ بتاتا ہے کہ فیصلہ کرنے والا کافر ہے ، ظالم ہے، فاسق ہے۔قرآن یہ فرماتا ہے هُوَ سَمَّكُمُ الْمُسْلِمِينَ مِنْ قَبْلُ وَ فِي هَذَا ( الج: 79) فرمایا مسلم کا نام کسی کمپنی کو ٹریڈ مارک کے طور پر ہم نے نہیں دیا جس طرح کہ ضیاء کے بیٹے نے لندن میں اور یہاں پر کہا ہے۔بلکہ فرمایا کہ هُوَ سَمَّكُمُ الْمُسْلِمِينَ مِنْ قَبْلُ وَ فِي هَذَا (الحج: 79) یہ مسلمان کا نام ہم نے عطا کیا ہے تمہیں بھی اور تم سے پہلے بزرگوں کو بھی۔چنانچہ قرآن مجید میں یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا موجود ہے:۔رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِنَا أُمَّةً مُّسْلِمَةٌ لَّكَ (البقرة: 129) اے خدا مجھے بھی مسلمان بنا اور میری ذریت کو بھی امت مسلمہ بنا دے۔تو جتنے تھے وہ مسلم تھے اور امت مسلمہ کے ہر فرد کا نام خدا نے مسلمان رکھا ہے۔جو نام اللہ نے دیا ہے وہ سوائے اللہ کے کون واپس لے سکتا ہے؟ اس لئے قرآن مجید نے اگر چہ منافقوں کے متعلق یہ کہا ہے کہ یہ جہنم کے عذاب میں کافروں سے بھی زیادہ نیچے جائیں گے مگر انہیں بھی اجازت دی ہے کہ تم اپنا نام مسلمان رکھ سکتے ہو۔