اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 382
382 کی اغراض کے لئے ، بین الاقوامی تعلقات کے لحاظ سے، انٹرنیشنل ٹریڈ کے لحاظ سے، ڈپلومیٹک معاملات کے لحاظ سے، قانون کے فیصلوں کے لحاظ سے سیشن کورٹس، ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ یہ اپنی Judgment میں جب مہینوں کا ذکر کریں گے یا سالوں کی نشاندہی کریں گے تو اس سے مراد ہجری کیلنڈر کے سال اور مہینے نہیں ہوں گے۔اس سے مراد کون سے مہینے ہوں گے؟ ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب: سن عیسوی مولانا دوست محمد شاہد صاحب :۔سن عیسوی ہوگا تو یہ ہے۔For the purposes of the Constitution and Law دوسری جگہ پر لکھا ہے کہ قانونی اغراض کے لئے سرکاری زبان انگریزی ہوگی۔“ اب کیا مطلب کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور میں عربی زبان کو ختم کر دیا گیا حالانکہ رسول پاک ﷺ نے فرمایا کہ عربی زبان خدا کی زبان ہے۔محمد مصطفیٰ کی زبان ہے اور جنت کی زبان ہے۔یہ معنی ہیں For the purposes of the Constitution کے؟ اس کی روشنی میں سورج کی طرح یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ بھٹو صاحب نے جو فیصلہ کیا اور خود انہوں نے اس فیصلے کو پیش کرتے ہوئے جو بات کی۔وہ ساری تفصیل اخباروں میں چھپی ہوئی موجود ہے۔وزیر اعظم بھٹو صاحب نے ہاؤس کے لیڈر کی حیثیت سے Preamble کے طور پر اس کا تعارف کراتے ہوئے یہ بات کہی کہ اس فیصلہ کا کریڈٹ ہمیں جاتا ہے اور نہ کسی اور کو جاتا ہے۔عوام کو جانا چاہئے۔کیونکہ یہ فیصلہ ہم نے عوام کی امنگوں کے مطابق کیا ہے۔یہ نہیں کہا کہ قرآن وحدیث کے مطابق کیا ہے۔عوام کہتے تھے کہ یہ فیصلہ کیا جائے ہم نے کر دیا ہے۔آگے کہتے ہیں کہ یہ فیصلہ جمہوری فیصلہ ہے۔جمہور نے کیا ہے۔مذہبی فیصلہ صرف اس وجہ سے ہے کہ جمہور کی اکثریت مسلمان کہلاتی ہے۔ان معنوں میں یہ اسلامی فیصلہ ہے۔( پوری تقریر ملاحظہ ہو ) The Pakistan Times Lahore September 9, 1974 page 7 نیز قادیانیت کا سیلاب اور ہماری حکمت عملی از اسراروڑائچ ناشر پائر اصفحہ 173-181)