اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 380
380 راہنمائی سے آپ اس وقت کر رہے ہیں اور میں ممنون احسان ہوں اس بارے میں آپ کا۔بات یہ ہے کہ 1973ء میں جو قانون آئین پاکستان کا پاس ہوا اس کے آخر میں وزیر اعظم اور صدر کے لئے ایک حلف نامہ تیار ہوا جس میں ختم نبوت کے الفاظ تھے اور وہی الفاظ پھر دوبارہ 1974ء میں پیش کئے گئے۔اس حلف نامہ کی شکل میں تو وہ الفاظ دراصل پرویزی مسلک رکھنے والے وزیر مملکت ملک جعفر خان صاحب کے تجویز کردہ تھے۔انہی کو دوبارہ اس میں شامل کیا گیا اور یہ انہی کے الفاظ تھے۔اور اس کا ڈاکومنٹری پروف یہ ہے کہ اپنی کتاب ”احمدیہ تحریک میں انہوں نے اس عقیدہ کو واضح کیا ہے۔وہ لکھتے ہیں کہ و جس ختم نبوت کے عقیدہ سے انکار کی بناء پر علماء جماعت احمدیہ کو اسلام سے خارج قرار دیتے ہیں، اس کی روشنی میں یہ علماء اپنی پوزیشن پر کیوں غور نہیں کرتے ؟ اگر ختم نبوت سے یہ مراد ہے کہ محمد رسول اللہ صلعم کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا ( اور ہمارے نزدیک یہی مراد ہے ) تو جماعت احمدیہ اور غیر احمدی علماء جونزول مسیح پر ایمان رکھتے ہیں ، دونوں ہی ختم نبوت کے منکر ہیں۔مسیح ابن مریم کے نبی ہونے میں کوئی شبہ نہیں اور اگر ان کو رسول کریم کے بعد آنا ہے تو نبی کریم خاتم النبین نہیں ہو سکتے۔احمدیوں کے نزدیک مسیح ابن مریم کو نہیں آنا بلکہ ان کے مثیل کو آنا تھا جو مرزا صاحب کی ذات میں آگیا۔۔۔۔اس طرح بنیادی لحاظ سے ان دونوں فریقوں میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔صرف اتنا فرق ہے کہ ایک فریق ایک نبی کے آنے کا منتظر ہے اور دوسرے کا خیال ہے کہ یہ نبی آچکا ہے۔ایک منکر ختم نبوت بالقوہ ہے اور دوسرا بالفعل۔“ احمد یہ تحریک از ملک محمد جعفر خان صفحه 129-130 ناشر سندھ ساگرا کا دمی چوک مینارا نارکی۔لاہور ) تو یہ عقیدہ تھا جو نئیس سال پہلے ملک جعفر صاحب اپنی کتاب ”احمدیہ تحریک“ میں شائع کر چکے تھے۔اب بالکل وہی چیز اس میں موجود ہے۔پہلی بات اس سلسلہ میں یہ ہے۔الفاظ اس کے یہ ہیں کہ ہر وہ شخص جو آنحضرت ﷺ کی ختم نبوت پر غیر مشروط طور پر ایمان نہیں لاتا۔یعنی غیر مشروط آخری نبی نہیں تسلیم کرتا یا وہ کسی قسم کی نبوت کا دعوی کرتا ہے یا ایسے دعوی کرنے والے کو نبی ،