اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 358
358 مولانا محمد طاسین صاحب کراچی مولا نا محمد طاسین صاحب ناظم مجلس علمی کراچی فرماتے ہیں کہ :۔میں سمجھتا ہوں یہ مسلمانوں پر اللہ تعالیٰ کا خاص اور عظیم فضل ہوا ہے۔(یعنی بھٹو صاحب کا جو یہ فضل ہوا ہے۔ملا تو سو سال سے خدا کے فضل سے بالکل محروم تھا۔) اس سے ایک طرف اس فتنہ کے سر پر کاری ضرب لگی اور اس کے انقلابی عزائم ملیا میٹ ہو گئے جو آگے چل کر بہت بڑی تباہی اور بربادی کا موجب بنتے۔دوسری طرف اس وقت مسلمان ایک بہت بڑے خون خرابے سے بچ گئے جس سے بے اندازہ جانی و مالی نقصان پہنچتا۔لہذا اس پر اللہ کا جتنا بھی شکر کیا جائے کم ہوگا۔‘ (صفحہ 7 ) مولانا منظور احمد چنیوٹی صاحب لکھتے ہیں:۔مولا نا منظور احمد صاحب چنیوٹی ناظم ادارہ دعوت وارشاد چنیوٹ۔بڑا لمبا چوڑا بیان ہے۔راقم اپنی عمر کی منتالیس منزلیں طے کر چکا ہے۔اس عرصہ میں اللہ تعالیٰ نے بڑی بڑی خوشیاں نصیب فرمائی ہیں۔عیدیں بھی آئیں۔حرمین شریفین کی زیارت سے بھی بارہا مشرف فرمایا۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ زندگی بھر کی تمام خوشیاں بھی اگر جمع کر دی جائیں تو وہ اس خوشی کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔۔۔۔راقم خوشی کے ان احساسات کو اپنے الفاظ کے قالب میں ڈھال کے پیش کرنے سے قاصر ہے۔“ معلوم ہوتا ہے مٹھائی جو پیش کی گئی تھی بہت زیادہ کھا گئے ہوں گے اس کی وجہ سے تو اب وہ الفاظ ہی نہیں مل رہے حضرت کو کہ وہ اس خوشی کا اظہار کر سکیں۔قادیانیوں کے متعلق یہ تاریخی فیصلہ اس صدی کا اہم فیصلہ اور عظیم کا رنامہ شمار ہوگا۔“