اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 20
20 20 بات کی اشاعت کی گئی۔66 آپ دیکھ لیں کہ پراپیگنڈہ کرنے والوں نے کس طرح پر آخری نکتہ کی طرف آنا شروع کیا۔پھر اس کے بعد سر براہ کانفرنس میں ”المنبر “ نے خاص نمبر میں یہ بات کہی کہ وقت آ گیا ہے کہ شاہ فیصل جو کہ خادم حرمین شریفین ہیں، ان کے ہاتھ پر مسلمان بیعت کریں اور عیدی امین نے اس بات کو پیش کیا۔لیکن بڑی بھول تھی ان کی کوئی عرب لیڈر اس بات پر تیار نہیں ہوا کہ وہ اپنے ملک کی قیادت شاہ فیصل کے سپر د کر دے۔مگر یہ ایک سکیم تھی ان کے سامنے کہ مسلمانوں کو شاہ فیصل کی مٹھی میں دیا جائے اور شاہ فیصل اس پروگرام کو بروئے کارلائیں جو پروگرام کہ پوپ اور عیسائی دنیا چاہتی ہے، تو یه سر براہ کا نفرنس اس غرض کے لئے ہوئی۔ایک مقصد یہ بھی تھا کہ احرار نے اور دوسرے لوگوں نے یہ کہا کہ یہ جو آپ لوگ کہتے ہیں کہ خلیفہ المسلمین آپ کو بننا چاہئے تو حدیث نبوی میں ہے کہ دوخلیفے بیک وقت نہیں ہو سکتے۔اگر ایک کا انتخاب ہو جائے تو دوسرے کو قتل کر دینا چاہئے۔اس قتل سے مراد جس طرح کہ لوگوں نے کہا ہے کہ من بدل دينه فاقتلوه (صحيح البخارى كتاب الجهاد والسير باب لا يعذب بعذاب الله ) قتل کا لفظ عربی زبان میں بائیکاٹ کے معنوں میں بھی آتا ہے۔تو اس کے معنے تھے کہ بائیکاٹ کرو۔اب دیکھیں عبد اللہ بن زبیر نے بیعت نہیں کی حضرت علی کی مگر ان کو قتل کیا گیا ہے؟ ؟ بائیکاٹ ضرور کیا ہے۔تو اب دیکھیں کہ مقاصد سیاسی تھے۔خلافت کا نام بھی سیاست کے لئے لیا جا رہا تھا۔یہی وجہ ہے کہ اسی سربراہ کا نفرنس کا آج تک ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے اور اس وقت پیپلز پارٹی نے کہا کہ یہ سب سے بڑا عظیم الشان کارنامہ ہے جو پیپلز پارٹی گورنمنٹ نے دکھایا ہے۔چوہدری نذیر احمد صاحب جو 1953ء میں جماعت اسلامی کی طرف سے تحقیقاتی عدالت میں وکیل تھے اور وہ وزیر صنعت بھی رہے۔انہوں نے اپنی کتاب ”داستان پاکستان میں لکھا ہے کہ مجھے یہ لکھتے ہوئے شرم محسوس ہوتی ہے کہ سربراہ کا نفرنس کے دوران لاہور کے جتنے فائیو سٹار ہوٹل تھے، ان میں نوٹس جاری کئے گئے کہ وہسکی اور فلاں فلاں اعلیٰ کوالٹی کی شراب جو یورپ سے آتی ہے اس کا ہم سے مطالبہ نہ کریں اور شرمندہ نہ کریں کیونکہ ہم نے عالم اسلام کے معزز مہمانوں کے لئے اور سربراہان مملکت اسلامی کے لئے وہ مخصوص کر رکھی ہے۔(داستان پاکستان صفحه 115-116 ناشر فیروز سنز لاہور )