اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 286
286 خان صاحب کے خلاف تھے۔ان حقائق کو کوئی انسان دنیا سے چھپا نہیں سکتا۔تو احرار کی کوئی الگ حیثیت نہیں ہے، وہ آلہ کار استعمار کے ہیں، آلہ کار یہود کے ہیں۔چنانچہ آپ حیران ہوں گے۔میں ڈسکوری (Discovery) کرنا چاہتا ہوں آپ کے سامنے کہ یروشلم جیسی بستی سے موازنہ مذاہب کے پروفیسر Yohanan Friedmann نے 1985ء میں کتاب لکھی اور آکسفورڈ پریس سے شائع ہوئی۔یہ صاحب انسٹی ٹیوٹ آف ایشیاء اینڈ افریقہ سٹڈیز ہیبر یو یونیورسٹی یروشلم میں پڑھاتے ہیں۔نام اس کا دھوکہ دینے کے لئے رکھا "Prophecy Continues" پرافٹ ہڈ نبوت کا نام ہے۔کہتے ہیں کہ نبوت جاری ہے۔ابتدا میں لکھا کہ قادیانی نظر یہ ٹھیک ہے کہ نبوت جاری ہے۔یہ اس لئے لکھا تا کہ دنیا دھو کہ میں آجائے کہ اس کا لکھنے والا کوئی دشمن نہیں ہے۔مگر حق یہ ہے کہ تین صفحات کے علاوہ ساری کی ساری کتاب جو ہے وہ احراریوں کے اس محضر نامہ کی ہی بازگشت ہے۔اس میں حوالے وہی ہیں جو کہ محضر نامہ میں احراریوں نے یہاں پر دیے تھے اس یہودی سکالر نے اس میں لکھا ہے کہ میں نے اس وقت سے یہ کتاب معنی شروع کی جب ضیاء صاحب نے قادیانیوں کے خلاف آرڈینینس جاری کیا اور پھر شریعت کورٹ کے بینچ نے قادیانیوں کی اپیل کو خارج کر دیا۔جس دن خارج ہوئی اس دن سے میں نے یہ کتاب شروع کی ہے۔اب اندازہ لگا سکتے ہیں ان کڑیوں کا اور اس کے پیچھے جو کڑیاں کار فرما ہیں۔کہتے ہیں کہ میں انتظار میں تھا کہ ضیاء الحق صاحب اور اس کے بعد ان کی عدالت کیا فیصلہ کرتی ہے۔اس کے بعد میں نے یہ کتاب لکھی ہے اور پھر آگے لکھتے ہیں کہ میں نے حوالے محضر نامے سے لئے ہیں۔یہ کہہ رہے ہیں کہ میں نے انڈیا آفس سے فلاں فلاں انچارج ہیں قریشی سلیم الدین صاحب اور فلاں فلاں انچارج ہیں برٹش لائبریری میں قاضی محمود الحق ہیں۔( میں جانتا ہوں ان کو۔انہوں نے حوالے دیئے ہیں۔وہ بھی سب احراری ہیں اور اس کے بعد کتاب چھپی ہے 1989ء میں جبکہ جماعت احمدیہ کی جو بلی ہو رہی تھی۔اور اس جو بلی کے متعلق احراریوں کی وجہ سے اس دور کی حکومت نے کہا کہ احمدیوں کو خاص طور پر ربوہ میں، احمدی بچوں کو نئے کپڑے پہنے بھی ناجائز ہیں اور قانون کے خلاف ہے۔نہ کوئی احمدی یہاں پر جلوس نکالیں ، نہ احمدی مٹھائی تقسیم کریں، نہ بیج لگا ئیں۔چنانچہ اس زمانے میں آپ دیکھیں آرائشی دروازے لگے ہوئے تھے، اسی طرح لگے رہے ایک سال تک تو عین اس وقت جب جماعت احمدیہ