اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 272
272 فرماتے ہیں کہ میں حضرت قائد اعظم کا پیغام لے کر آدھی رات کے قریب قادیان گیا۔حضور اس وقت سو چکے تھے مگر اسی وقت حضور کو اطلاع دی گئی۔حضور فوراً تشریف لائے یہ سن کر کہ قائد اعظم کا پیغام لے کے آئے ہیں۔میں نے پیغام دیا تو حضرت مصلح موعودؓ نے یہ جواب دیا۔( یہ سٹیٹمنٹ Statement سردار شوکت حیات صاحب کا ہے۔) ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب :۔یہ کہ اسی وقت وہ دروازے پر تشریف لائے اور آکر میری بات سنی۔مولا نا دوست محمد شاہد صاحب :۔تو حضور نے فرمایا کہ قائد اعظم کو یہ پیغام دے دیں کہ پہلے دن سے یعنی قیام پاکستان کی جو قرار داد ہے اس دن سے ، ہم پاکستان اور مسلم لیگ کی کامیابی کے لئے دعا کر رہے ہیں۔اور دوسری بات یہ ہے کہ میرا حکم ہے کہ مسلم لیگ کو ووٹ دیئے جائیں۔اس واسطے کوئی احمدی کسی اور کو ووٹ دے ہی نہیں سکتا۔اور اگر مسلم لیگی امیدوار کے علاوہ کسی اور کوکوئی ووٹ دے گا تو احمدی اس کی سپورٹ نہیں کریں گے۔چنانچہ آگے لکھتے ہیں کہ سیالکوٹ کے ضلع میں یونینسٹ پارٹی (Unionist Party) کی طرف سے ایک امیدوار تھے اور وہ نواب محمد دین صاحب اس وقت جماعت احمد یہ سیالکوٹ کے امیر تھے، ان کے چونکہ یونینسٹوں سے بڑے گہرے مراسم تھے۔تو جماعت کی پالیسی سے پہلے ہی یونینسٹوں کے ساتھ ان کا ایک تعلق تھا۔یونینسٹ (Unionist) جو تھے وہ پاکستان تو چاہتے تھے مگر قائد اعظم کی قیادت کے پوری طرح قائل نہ تھے۔خضر حیات کی یونینسٹ پارٹی نے اپنے امیدوار کھڑے کئے ہوئے تھے۔اس حلقے میں ممتاز دولتانہ مسلم لیگ کی طرف سے امیدوار تھے تو انہوں نے لکھا ہے کہ حقیقتاً ایسا ہی ہوا، نواب محمد دین صاحب چونکہ وعدہ کر چکے تھے انہوں نے تو ووٹ یونینسٹ کو دیا۔مگر ساری جماعت نے دولتانہ صاحب کے حق میں ووٹ ڈالے اور دولتانہ صاحب جیت گئے۔جماعت کے کسی ایک فرد نے بھی سوائے نواب صاحب کے کسی اور کو ووٹ نہیں دیا۔حافظ محمد نصر اللہ صاحب : سردار شوکت حیات صاحب اس وقت مولانا مودودی صاحب کے پاس بھی گئے تھے؟ مولانا دوست محمد شاہد صاحب :۔ہاں مودودی صاحب کے پاس گئے اور آگے یہ بیان