اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 231 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 231

231 میں یہ آچکا ہے۔یہی اللہ وسایا صاحب نے جو کچھ لکھا ہے اور جو کتا ہیں ہمارے خلاف لکھی گئی ہیں ، خود ہی جو جھوٹ ڈرامائی طور پر اخباروں میں چھپتے رہے اس کو پھر اپنا دعا اور بنیاد بنادیا گیا۔جب اٹارنی جنرل صاحب نے پاکستانی اخباروں کا حوالہ دیا تو حضور جلال میں آگئے۔وہ وقت بڑا ہی عجیب تھا۔حضور نے درد اور جوش سے مغلوب لب ولہجہ میں فرمایا کہ آپ ان پاکستانی اخبارات کو پیش کر رہے ہیں جنہوں نے ضرب خفیف کے ایک معمولی واقعہ کو ایک انتہائی مبالغہ آرائی کے رنگ میں پیش کرتے ہوئے یہاں تک کہا کہ گویا نشتر کالج ملتان کے معصوم طلباء پر ربوہ کے ہزاروں احمدیوں نے حملہ کر کے ان کی زبانیں تک کاٹ ڈالیں اور پھر وہ زبانیں اسی دن ایبٹ آباد میں مولویوں نے اپنی تقریروں کے دوران عوام کو بھی دکھلائیں۔پھر انہی اخبارات نے یہ سفید جھوٹ بولا کہ گویا یہ سب کا رروائی میرے حکم پر ہوئی ہے حالانکہ میں وہ شخص ہوں جو تعلیم الاسلام کالج کا تمیں برس تک پرنسپل رہا ہوں۔اس دوران کالج میں غیر احمدی بچوں کی اکثریت رہی ہے لاہور میں بھی اور ربوہ میں بھی۔میں نے ان احراری معاندین کے بیٹوں کو بھی ، ان کی فیس کو معاف کر کے داخلہ دیا جنہوں نے لاہور کی 1953ء کی ایجی ٹیشن میں حصہ لیا اور ہمارے کالج کو نقصان بھی پہنچایا۔کئی غیر احمدی طلباء کو میں نے اپنی جیب سے خرید کر سویا بین فراہم کی اور بیماری کی صورت میں کئی کئی راتیں ان کی تیمار داری میں گزار دیں۔آخر میں مجھے کہنا ہے کہ آپ کا پیش کردہ مزعومہ بیان آپ ہی کے اعتراف کے مطابق میرا نہیں چو ہدری سر ظفر اللہ خان صاحب کا ہے۔اس لئے یہ سوال انہی سے کرنا چاہئے۔میں ظفر اللہ خان نہیں ہوں۔میں خلیفہ اسیح ہوں۔د نجم الہدی“ کا حوالہ حافظ محمد نصر اللہ صاحب :۔ایک سوال جو حضور سے کیا گیا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب ” نجم الہدی کے صفحہ 53 کے حوالہ سے تھا کہ اس میں مخالفین احمدیت کو بیابانوں کے خنازیر کہہ کر دل آزاری کی گئی ہے۔حضور نے اس کے جواب میں کیا فرمایا تھا ؟ مولانا دوست محمد شاہد صاحب :۔بہت پیارا جواب تھا۔فرمایا یہاں بد زبان پادری مراد ہیں۔اصل کتاب دیکھیں تو پادریوں کا ذکر ہورہا ہے لیکن یہ تو بڑا مختصر مگر جامع جواب تھا۔