اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 179 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 179

179 مسکرائے۔کہنے لگے۔میں واپس لیتا ہوں۔میں نے کہا یہ آپ کی مہربانی ہے ورنہ ایک عیسائی سے حضرت مولانا قاضی محمد نذیر صاحب کا مناظرہ ہو رہا تھا۔گوجرہ کی بات ہے پارٹیشن سے بہت پہلے۔حضرت قاضی صاحب اسلامیہ سکول فیصل آباد میں (اس وقت وہ لائکپور تھا) استاد تھے۔مناظرہ ہو رہا تھا جس عیسائی کے ساتھ اس کا نام تھار لیا رام۔اس نے کوئی ایسی حرکت کی۔آنحضرت ﷺ کا نام لیتے ہوئے اس نے انتہائی بدقماش ہونے کا ثبوت دیا تو قاضی صاحب کہنے لگے کہ یہ چیز واپس لو یہ بہت ظالمانہ بات ہے اور شرم آنی چاہئے تمہیں تم محبت کے دعوے کرتے ہو اور رسول پاک ﷺ کے اسم گرامی کے متعلق تم نے یہ بکواس کی ہے اور کہنے لگے تم نے یہ بات کی ہے۔تمہارا نام رلیا رام ہے۔میں تمہیں دمڑی رام بنا کر چھوڑوں گا۔خیر وہ ایسی جلالی بات تھی پادری رلیا رام کہنے لگا میں واپس لیتا ہوں۔کہنے لگے اب میں واپس دینے کے لئے تیار نہیں ہوں۔میں نے جب سرگودھا سے آئے مہمان سے پوچھا دوبارہ کہ یہ ٹھیک ہے ناجی کہ آپ رسول اللہ ﷺ کو مانتے ہیں، تو کبھی اپنے تئیں غیر احمدی نہ کہلائیں۔جہاں جائیں آپ کہیں کہ میں احمدی ہوں۔وہ بھی بڑے ہوشیار آدمی تھے۔کہنے لگے میں احمدی تو ہوں مرزائی نہیں ہوں۔جو نہی انہوں نے بات کہی ، میں نے اسی وقت کتاب منگوائی۔سیال شریف والوں کے بزرگ حضرت خواجہ شمس الدین سیالوی تھے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں ہی فوت ہو گئے تھے۔بہت بڑے اکابر صوفیاء میں ان کا شمار ہوتا ہے۔حضرت قاضی اکمل صاحب اور ان کے والد حضرت مولوی امام الدین صاحب یہ ان کے مریدوں میں شامل تھے۔بعد میں احمدیت میں آئے۔بہت بلند پایہ بزرگ مسیح موعود کے آنے سے پہلے بے شمار ستارے گذرے ہیں۔آسمان پر چمکتے رہے جن کے طفیل بر صغیر میں اسلام پھیلا ہے۔ملاں نے تو مسلمانوں کو کافر بنایا ہے۔کافروں کو مسلمان بنانے والے تو اہل اللہ ہی تھے جن میں حضرت خواجہ شمس الدین بھی تھے۔میں نے کتاب منگوائی ” مرآة العاشقین“ میں نے کہا کہ اب سنیں یہ حضرت خواجہ شمس الدین سیالوی کی کتاب آپ نے پڑھی ہے ” مرأة العاشقین“۔کہنے لگے کتاب تو نہیں پڑھی مگر میں تو ان کا مرید ہوں۔سنا ئیں کیا لکھا ہے۔میں نے کہا سنیں۔