اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 172 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 172

172 ہوں۔احراری لیڈر خود کس شان سے لکھتے ہیں:۔دو یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مجلس احرار کے خطیبوں میں جذباتیت، پھکڑ بازی ( گالیاں دینا) بھونکنا اور اشتعال انگیزی کا عنصر غالب ہے۔یہ ٹھیک ہے مگر یہ بھی تو دیکھئے کہ ہماری قوم کی ذہنیت اور مذاق کیا ہے۔آپ ذرا حقیقت پسند ،سنجیدہ اور متین بن جائیں پھر آپ مسلمانوں میں مقبول ہو جائیں اور کوئی تعمیری اور اصلاحی کام کر لیں تو ہمارا ذمہ۔یہی تو ہماری سب سے بڑی کمزوری ہے کہ ہم حقائق و واقعات سے کوئی تعلق نہیں رکھتے۔“ تاریخ حقائق و واقعات کا دراصل عکس ہوتی ہے۔کہتے ہیں، ہم جو کہتے ہیں وہ حقائق اور واقعات کے خلاف کہتے ہیں۔مگر پھکڑ بازی اور اشتعال انگیزی میں ہمارا کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا۔ناقل ) کہتے ہیں:۔یہی تو ہماری سب سے بڑی کمزوری ہے کہ ہم حقائق اور واقعات سے کوئی تعلق نہیں رکھتے۔آپ بڑے بڑے دیانتدار، با اخلاق اور سنجیدہ، متین پہاڑوں کو کھو دیں تو اشتعال کا چوہا نکلے گا۔( کہتے ہیں ) یہ ہمارا ہی قصور نہیں تمام مسلمان کہلانے والے مولویوں اور جماعتوں کا قصور ہے۔الیکشن بازی میں تو دیندار اور بے دین سب کے سب اشتعال انگیزی سے ہی کام لیتے ہیں۔ہاں یہ ضرور ہے کہ اس سے کوئی کم کام لیتا ہے کوئی زیادہ۔(اب اپنے کاروبار کے متعلق لکھتے ہیں۔ناقل ) ہمارے احراری بزرگ اس میں سب سے آگے ہیں اسی لئے وہ رشک و حسد کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔“ یہ ہے اصل چیز اور اسی وجہ سے پھر دنیا کے دوسرے مفکر مسلمانوں نے اس بات کا کھل کر اظہار کیا ہے۔چنانچہ دیکھیں غیروں کے متعلق آنحضور کی حدیث علامہ السیوطی نے اپنے جامع الصغیر میں لکھی ہے۔فرمایا کہ "جَاهِدُوا الْمُشْرِكِيْنَ۔۔بِالْسِنَتِكُمْ» مشرکوں کے خلاف زبانوں سے بھی جہاد کرو۔