اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 163
163 کے بعد وہ بھی اس دنیا سے راہی ملک عدم ہو جائے گا اور اس کے بعد پھر یہ محمدی بیگم میرے عقد میں آئے گی اگر وہ تو بہ نہ کرے۔لیکن اللہ تعالیٰ نے پہلے دن جو الہام کیا اس میں یہ تھا کہ يَمُوتُ وَيَبْقَى مِنْهُ كِلابٌ مُّتَعَدِّدَة ( اشتهار 15 جولائی 1888ء مجموعہ اشتہارات جلد دوم ایڈیشن جدید صفحہ 140 ) کہ عملاً یہ صورت ہوگی کہ خاندان میں ایک ہی گستاخ رسول مرے گا یعنی محمدی بیگم کا والد اور دوسرا معافی مانگے گا اور اسلام کے ساتھ محبت کا اظہار کرے گا تو خدا اس عذاب کو ٹال دے گا۔نتیجہ کیا نکلے گا کہ چونکہ بیوہ ہونے کے بعد اس نے آنا تھا مگر خدا نے رحم کر کے اس کے خاوند کی توبہ قبول کر لی۔اس کے نتیجے میں اسلام کے دشمن جن میں سرفہرست عیسائی اور اس کے بعد ملاں ہیں، یہ پھر استہزاء کریں گے جس طرح کہ خدا کے نبیوں کی پیشگوئیوں پر استہزاء کیا جاتا ہے۔الفاظ یہی ہیں يَمُوتُ وَيَبْقَى مِنْهُ كِلابٌ مُتَعَدِّدَة عیسائی اور ان کے ہمنوا کتوں کی طرح بھونکیں گے۔یہ بیک گراؤنڈ بیان کرنے کے بعد اس میں دو چیزیں نمایاں کی گئیں، اس ثبوت کے لئے کہ یہ تو ایک واقعہ ہے اور عجیب بات ہے کہ عیسائی اور ان کے ہمنو امولوی کبھی بیان نہیں کرتے کہ محمدی بیگم کا والد واقعی طور پر پیشگوئی کے مطابق تین سال کے اندر مر گیا تھا اور اس کے نتیجے میں کہرام مچ گیا۔قیامت ٹوٹ پڑی پورے خاندان پر اور نتیجہ یہ نکلا کہ پورے خاندان نے عملاً تو بہ کی اور خود محمدی بیگم کے خاوند نے بھی نہ صرف تو بہ کی بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے عقیدت کا اظہار کیا۔چنانچہ سلسلہ کی تاریخ میں ان کے خط کا عکس شائع شدہ ہے۔وہ الفاظ جو محمدی بیگم کے خاوند نے انبالہ چھاؤنی سے 29 مارچ 1913 ء کو تحریر کیے ہیں: ” برادرم السلام علیکم نوازش نامہ آپ کا پہنچا۔یاد آوری کا مشکور ہوں۔میں جناب مرزا جی صاحب مرحوم کو نیک، بزرگ ، اسلام کا خدمت گزار، شریف النفس، خدایار، پہلے بھی اور اب بھی خیال کر رہا ہوں۔مجھے ان کے مریدوں سے کسی قسم کی مخالفت نہیں بلکہ افسوس کرتا ہوں کہ چندا مورات کی وجہ سے ان کی زندگی میں ان سے شرف نہ حاصل کر سکا۔